اہلِ جاہلیت کا ’ایلاء‘ سال یا دو سال کے لیے ہوا کرتا تھا۔ بعد ازاں اللہ تعالیٰ نے اس کی مد…

اسلام > Ur > حدیث > فقہ و اصول فقہ > اہلِ جاہلیت کا ’ایلاء‘ سال یا دو سال کے لیے ہوا کرتا تھا۔ بعد ازاں اللہ تعالیٰ نے اس کی مد…

حدیث کے راوی: اسے امام بیہقی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام طبرانی نے روایت کیا ہے۔ - اسے سعید بن منصور نے روایت کیا ہے۔

مجھے (اس کے بارے میں) شیخ البانی رحمہ اللہ کا کوئی حکم نہیں ملا۔

27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا

📖 1 منٹ مطالعہ

حدیث کا متن: اہلِ جاہلیت کا ’ایلاء‘ سال یا دو سال کے لیے ہوا کرتا تھ…

عن ابن عباس رضي الله عنهما أنه قال: «كان إيلاء أهل الجاهلية السنة والسنتين، ثم وَقَّتَ الله الإيلاء فمن كان إيلاؤُه دون أربعة أشهر فليس بإيلاء».

حدیث کی وضاحت: اہلِ جاہلیت کا ’ایلاء‘ سال یا دو سال کے لیے ہوا کرتا تھ…

ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی اس اثر سے یہ بات معلوم ہوئی کہ اہلِ جاہلیت یعنی نبی ﷺ کی بعثت سے پہلے کے لوگ اپنی بیویوں سے ایک سال یا دو سال کے لیے ’ایلاء‘ کیا کرتے تھے بالکل ایسے ہی جیسے وہ طلاقیں بھی تین سے زیادہ دیا کرتے تھے۔ پھر جوں ہی عدت ختم ہونے کے قریب آتی تو آدمی اپنی بیوی سے رجوع کر لیتا اور پھر اسے طلاق دے دیتا۔ ’ایلاء‘ بھی اسی طرح تھا اور اس سے عورتوں کو بہت زیادہ تکلیف پہنچتی۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے میاں بیوی کے لیے ایک معین مدت مقرر فرما دی یعنی چار ماہ جس میں آدمی ’ایلاء‘ کرنے والا سمجھا جائے گا ۔ جو شخص اس مدت سے زیادہ کے لیے ایلاء کرتا ہے وہ یا تو طلاق دے دے یا پھر اپنی بیوی سے رجوع کر لے اور جو چار ماہ سے کم کے لیے ایلاء کر تا ہے اس کا یہ ایلاء (شرعی) ایلاء نہیں ہو گا بلکہ یہ وہ ایلاء ہو گا جو شوہر اپنی بیوی کی تادیب اور اس کی اصلاح کے لیے کیا کرتا ہے اور اس کا وہ حکم نہیں ہوتا جو (شرعی و اصطلاحی) ایلاء کا ہوتا ہے۔

موضوعات : ایلاء

بسم الله الرحمن الرحيم بدھ 16 جمادی الاول
الأربعاء 16 جمادى الأولى
أحدب متناقص گھٹتا ہوا گول چاند دن 16.6 / 29.5
روشنی 96%
نیا چاند 13 دنوں میں
سبحان الله اللہ کی تسبیح

إِنَّ ٱللَّهَ وَمَلَٰٓئِكَتَهُۥ يُصَلُّونَ عَلَى ٱلنَّبِىِّ ۚ يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ صَلُّوا۟ عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا۟ تَسْلِيمًا

خدا اور اس کے فرشتے پیغمبر پر درود بھیجتے ہیں۔ مومنو تم بھی ان پر دُرود اور سلام بھیجا کرو

Al-Ahzab 33:56

نبی پر درود