اسلام > Ur > حدیث > فقہ و اصول فقہ > خرید وفروخت میں بہت زیادہ قسمیں کھانے سے بچو، کیونکہ اس سے گرم بازاری تو ہوجاتی ہے لیکن بر…
صحیح27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا
📖 1 منٹ مطالعہعن أبي قتادة رضي الله عنه : أنه سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «إيَّاكُمْ وكَثْرَةَ الحَلِفِ في البيع، فإنه يُنَفِّقُ ثم يَمْحَقُ».
حدیث کا مفہوم: خرید و فروخت میں بہت زیادہ قسمیں کھانے سے پرہیز کرو اگرچہ سچی ہی ہوں کیوں کہ بہت زیادہ قسمیں کھانے سے جھوٹ میں پڑنے کا امکان ہے۔ مثلاً انسان کے لیے مناسب نہیں کہ وہ یوں کہے: اللہ کی قسم! میں نے اس چیز کو سو میں خریدا ہے اگرچہ وہ سچا ہی کیوں نہ ہو۔ اگر اس نے کہا کہ اللہ کی قسم میں نے اسے سو میں خریدا ہے حالانکہ اس نے اسے اسّی (80) میں خریدا ہو تو یہ اور بھی شدید ظلم ہے کیونکہ اس صورت میں وہ بیع میں جھوٹ بولنے والا اور جھوٹی قسم کھانے والا ہو گا جب کہ نبی ﷺ نے ایسا کرنے سے منع فرمایا ہے اور آپ ﷺ نے خبر دی ہے کہ خرید و فروخت میں قسمیں اٹھانے سے سامان تجارت تو آناً فاناً بک جاتا ہے، تاہم اللہ تعالی اس سے برکت ختم کر دیتا ہے۔ کیونکہ یہ کمائی رسول ﷺ کی نافرمانی سے حاصل ہوتی ہے اور رسول اللہ ﷺ کی نافرمانی درحقیقت اللہ ہی کی نافرمانی ہے۔
موضوعات : بیع وشراء