اسلام > Ur > حدیث > فقہ و اصول فقہ > اے اللہ، اے لوگوں کے پروردگار، اے پریشانی کو دورکرنے والے! تو شفا عطا فرما، تو ہی شفا دینے…
صحیح27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا
📖 1 منٹ مطالعہعن أنس رضي الله عنه أنه قَالَ لِثابِتٍ رحمه اللهُ: ألاَ أرْقِيكَ بِرُقْيَةِ رسولِ اللهِ صلى الله عليه وسلم ؟ قال: بلى، قال: «اللَّهُمَّ رَبَّ النَّاسِ، مُذْهِبَ البَأسِ، اشْفِ أنْتَ الشَّافِي، لاَ شَافِيَ إِلاَّ أنْتَ، شِفَاءً لاَ يُغَادِرُ سَقماً».
انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے ثابت البنانی رحمہ اللہ کو بلایا اور ان سے پوچھا کہ کیا میں تمہیں وہ دم نہ کروں جو نبی ﷺ کیا کرتے تھے؟۔ آپ ﷺاپنے رب سے مریض کے لیے یہ دعا کیا کرتے تھے کہ وہ اس سے مرض کی شدت، اس کی سختی اور تکلیف کو دور کردے اور ایسی شفا دے دے جس کے بعد پھر سے مرض لوٹ کر نہ آئے۔
علماء کا دَم (رقیہ) کے جائز ہونے پر اتفاق ہے بشرطیکہ تین شرائط پائی جائیں:
1۔ یہ کلام اللہ یا اس کے اسماء و صفات کے ساتھ ہونا چاہئے۔
2۔ یہ عربی زبان میں ہو اور اس کا معنی سمجھ میں آنے والا ہو۔مستحب یہ ہے کہ یہ ان الفاظ کے ساتھ ہو جو احادیث میں آئے ہیں۔
3۔ اس بات کا عقیدہ رکھنا کہ دَم (رقیہ) میں بذات خود کوئی تاثیر نہیں بلکہ اس میں تاثیر اللہ کی طرف سے آتی ہے۔
موضوعات : جھاڑ پھونک کے احکام · بیمار پرسی کے آداب