اے ابن آدم! جب تک تو مجھے پکارتا رہے گا اور مجھ سے امید رکھے گا، میں تیرے گناہوں کو بخشتا …
اسلام > Ur > حدیث > عقیدہ > اے ابن آدم! جب تک تو مجھے پکارتا رہے گا اور مجھ سے امید رکھے گا، میں تیرے گناہوں کو بخشتا …
حدیث کے راوی: رواه الترمذي
حسن
27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا
📖 1 منٹ مطالعہ
حدیث کا متن: اے ابن آدم! جب تک تو مجھے پکارتا رہے گا اور مجھ سے امید…
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رضي الله عنه قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «قَالَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: يَا ابْنَ آدَمَ إِنَّكَ مَا دَعَوْتَنِي وَرَجَوْتَنِي غَفَرْتُ لَكَ عَلَى مَا كَانَ فِيكَ وَلاَ أُبَالِي، يَا ابْنَ آدَمَ لَوْ بَلَغَتْ ذُنُوبُكَ عَنَانَ السَّمَاءِ ثُمَّ اسْتَغْفَرْتَنِي غَفَرْتُ لَكَ، وَلاَ أُبَالِي، يَا ابْنَ آدَمَ إِنَّكَ لَوْ أَتَيْتَنِي بِقُرَابِ الأَرْضِ خَطَايَا ثُمَّ لَقِيتَنِي لاَ تُشْرِكُ بِي شَيْئًا لأَتَيْتُكَ بِقُرَابِهَا مَغْفِرَةً».
حدیث کی وضاحت: اے ابن آدم! جب تک تو مجھے پکارتا رہے گا اور مجھ سے امید…
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ اللہ تعالی نے حدیث قدسی میں فرمایا: اے ابن آدم! جب تک تو مجھے پکارتا رہے گا، میری رحمت کی امید لگائے رہے گا اور نا امید نہیں ہوگا، میں بے پرواہ ہوکر تیرے گناہ پر پردہ ڈالتا رہوں گا اور اسے مٹاتا رہوں گا۔ خواہ یہ گناہ کبیرہ گناہوں کے زمرے میں ہی کیوں نہ آتا ہو۔ اے ابن آدم! اگر تیرے گناہ اتنے زیادہ بھی ہو جائيں کہ آسمان اور زمین کے درمیان کے خلا کو بھر دیں اور اس کے بعد بھی تم مجھ سے بخشش طلب کرو، تو گناہوں کی کثرت کی کوئی پرواہ کیے بغیر میں تجھ کو بخش دوں گا۔
اے ابن آدم! اگر تو موت کے بعد میرے پاس اس حال میں آئے کہ تیرے گناہوں اور نافرمانیوں سے روئے زمین بھری ہوئی ہو اور تو موحد بن کر فوت ہوا ہو اور کسی کو میرا شریک نہ ٹھہرایا ہو، تو میں ان گناہوں اور نافرمانیوں کے مقابلے میں روئے زمین بھر مغفرت سے کام لوں گا۔ کیوں کہ میری بخشش کا دائرہ بڑا وسیع ہے۔ میں شرک کے علاوہ سارے گناہوں کو بخش دیتا ہوں۔
اسباق: اے ابن آدم! جب تک تو مجھے پکارتا رہے گا اور مجھ سے امید…
- اللہ کی بے پایاں رحمت، بخشش اور فضل و کرم۔
- توحید کی فضیلت اور یہ کہ اللہ توحید کی راہ پر چلنے والوں کے گناہ معاف کر دیتا ہے۔
- شرک کی خطرناکی اور یہ کہ اللہ شرک کرنے والوں کو معاف نہيں کرے گا۔
- ابن رجب کہتے ہيں: اس حدیث میں گناہوں کی مغفرت کے تین اسباب بیان ہوئے ہيں: 1- امید کے ساتھ دعا۔ 2۔ بخشش مانگنا اور توبہ کرنا۔ 3- توحید پر کاربند رہ کر مرنا۔
- یہ حدیث ان حدیثوں میں سے ہے، جن کو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے رب سے روایت کیا ہے۔ اس طرح کی حدیث کو حدیث قدسی یا حدیث الہی کہا جاتا ہے۔ یعنی ایسی حدیث جس کے الفاظ اور معنی دونوں اللہ کی جانب سے ہوں۔ یہ الگ بات ہے کہ اس کے اندر قرآن کے وہ خصائص نہيں پائے جاتے، جن کی بنیاد پر اسے ایک الگ امتیاز حاصل ہے۔ مثلا اس کی تلاوت کے ذریعہ اللہ کى عبادت کرنا، اس کى تلاوت کے لیے طہارت حاصل کرنا، اس کا معجزہ ہونا اور اس جیسا کلام پیش کرنے کا چیلنج پیش کیا جانا وغیرہ۔
- گناہوں کی تین قسمیں ہیں: 1- اللہ کا شریک ٹھہرانا۔ اسے اللہ معاف نہيں کرے گا۔ اللہ عز و جل نے فرمایا: (یقین مانو کہ جو شخص اللہ کے ساتھ شریک کرتا ہے اللہ تعالیٰ نے اس پر جنت حرام کردی ہے۔) 2- بندہ کوئی ایسا گناہ کرے، جس کا تعلق اس سے اور اس کے رب سے ہو۔ اللہ چاہے تو اس طرح کے گناہوں کو معاف کر سکتا ہے۔ 3- ایسے گناہ، جن میں اللہ کچھ نہيں چھوڑتا۔ یعنی بندوں کا ایک دوسرے پر ظلم کرنا۔ یہاں قصاص ضروری ہے۔
موضوعات :
توحيدِ اسماء وصفات
· توبہ :
بسم الله الرحمن الرحيم
منگل 15 جمادی الاول
الثلاثاء 15 جمادى الأولى
سبحان الله
اللہ کی تسبیح