اسلام > Ur > حدیث > عقیدہ > میں نے دیکھا کہ آپ ﷺ اس آیت کو پڑھ رہے ہیں اور آپ ﷺ نے اپنی دونوں انگلیوں کو (کان اور آنکھ…
صحیح27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا
📖 1 منٹ مطالعہعن أبي يونس سليم بن جبير مولى أبي هريرة رضي الله عنه ، قال: سمعتُ أبا هريرة يقرأ هذه الآية {إنَّ اللهَ يأمركم أن تؤدُّوا الأماناتِ إلى أهلها} [النساء: 58] إلى قوله تعالى {سميعًا بصيرًا} [النساء: 58] قال: «رأيتُ رسولَ الله صلى الله عليه وسلم يضع إبهامَه على أُذُنِه، والتي تليها على عينِه»، قال أبو هريرة: «رأيتُ رسولَ الله صلى الله عليه وسلم يقرؤها ويضعُ إصبعيه».
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ یہ آیت پڑھتے تھے:﴿اِنَّ اللّٰهَ يَاۡمُرُكُمۡ اَنۡ تُؤَدُّوا الۡاَمٰنٰتِ اِلٰٓى اَهۡلِهَ... سَمِيۡعًۢا بَصِيۡرًا﴾ ”اللہ تعالیٰ تمھیں تاکیدی حکم دیتا ہے کہ امانت والوں کی امانتیں انہیں پہنچاؤ!... (بے شک اللہ تعالیٰ) سنتا ہے، دیکھتا ہے“ (النساء: 58).رسول اللہﷺکواس آیت کی تلاوت کرتے وقت اپنی پانچویں موٹی انگلی کواپنے کان پراوراس کے پاس والی انگلی کواپنی آنکھ پررکھتے ہوۓ دیکھاہے۔ایساآپﷺنے اللہ تعالی کے لیے سمع وبصرکی صفات کے اثبات میں تاکیدپیداکرنے کے لیے اورتحریف کرنے والوں کی تاویلات کوردکرنے کے لیے کیا۔اس میں مخلوق کے ساتھ تشبہہ نہیں ہے۔کیوں کہ اللہ تعالی فرماتے ہیں:﴿لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ وَهُوَ السَّمِيعُ الْبَصِير﴾ ”اس جیسی کوئی چیز نہیں،وه سننے اور دیکھنے واﻻ ہے“،چنانچہ نصوص پر مکمل طور پر ایمان لانے کا تقاضا ہے کہ جو کچھ ذکر کیا گیا ہے، اس پر ایمان لایا جائے۔
موضوعات : توحيدِ اسماء وصفات