اسلام > Ur > حدیث > عقیدہ > ابو مسعود! جان لو کہ اللہ تم پر اس سے زیادہ قدرت و اختیار رکھتا ہے جتنا تم اس غلام پر رکھت…
صحیح27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا
📖 2 منٹ مطالعہعن أبي مسعود البَدْري رضي الله عنه قال: كنت أضرب غُلاما لي بالسَّوْط، فسمعت صوتا من خَلفِي: «اعلم أبَا مسعود» فلم أفْهَم الصَّوت من الغَضَب، فلمَّا دَنَا مِنِّي إذا هو رسول الله صلى الله عليه وسلم فإذا هو يقول: «اعلم أبَا مسعود أن الله أقْدَرُ عليك مِنْك على هذا الغُلام». فقلت: لا أَضرب مملوكا بعده أبدًا.
وفي رواية: فسقط السَّوط من يَدي من هَيْبَتِه.
وفي رواية: فقلت: يا رسول الله، هو حُرٌّ لوجه الله تعالى، فقال: «أمَا لو لم تفعل، لَلَفَحَتْكَ النَّار، أو لَمَسَّتْكَ النَّار».
ابو مسعود رضی اللہ عنہ اپنے غلام کو کوڑے سے ما رہے تھے۔ اسی اثناء میں انہوں نے اپنے پیچھے سے ایک آواز سنی جو انہیں ڈاٹ رہی تھی۔ وہ پہچان نہ پائے کہ آواز دینے والا کون ہے۔ جب آواز دینے والا قریب آیا تو انہیں معلوم ہوا کہ یہ تو رسول اللہ ﷺ کی آواز ہے۔ آپ ﷺ یہ فرماتے ہوئے انہیں اللہ عز و جل کی قدرت یاد دلا رہے تھے کہ ’’اے ابو مسعود! یہ جان رکھو کہ اللہ تم پر اس سے زیادہ قدرت رکھتا ہے جتنی تم اس غلام پر رکھتے ہو‘‘۔ جب انہوں نے نبی ﷺ کی بات سنی اور کمزور پر دست درازی کے بارے میں آپ ﷺ کی تحذیر ان تک پہنچی تو رسول اللہ ﷺ کی ہیبت کی وجہ سے کوڑا ان کے ہاتھ سے گر گیا اور انہوں نے نبی ﷺ کے سامنے عہد کیا کہ اس کے بعد وہ کسی غلام کو نہیں ماریں گے۔ نبی ﷺ سے اس ڈانٹ اور ڈراوے کو سن کر انہوں نے مار کے کفّارے کے طور پر اس غلام کو آزاد کر دیا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایاکہ اگر تم اسے آزاد نہ کرتے تو قیامت کے دن تمہارے اس برے عمل کی وجہ سے تمہیں جہنم کی آگ چھو لیتی۔
موضوعات : توحيدِ اسماء وصفات · اخلاقِ حمیدہ/ اچھے اخلاق