جس نے (اللہ کو چھوڑ کر) کسی اور چیز سے امید لگائی، وہ اسی چیز کے سپرد کر دیا جاتا ہے۔
اسلام > Ur > حدیث > عقیدہ > جس نے (اللہ کو چھوڑ کر) کسی اور چیز سے امید لگائی، وہ اسی چیز کے سپرد کر دیا جاتا ہے۔
حدیث کے راوی: اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔
حَسَنْ
27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا
📖 1 منٹ مطالعہ
حدیث کا متن: جس نے (اللہ کو چھوڑ کر) کسی اور چیز سے امید لگائی، وہ ا…
عن عبد الله بن عكيم رضي الله عنه مرفوعاً: «مَنْ تَعَلَّقَ شيئا وُكِلَ إليه».
حدیث کی وضاحت: جس نے (اللہ کو چھوڑ کر) کسی اور چیز سے امید لگائی، وہ ا…
جو اپنے دل یا اپنے عمل یا پھر دونوں ہی کے ساتھ کسی چیز کی طرف متوجہ ہوا اور اس سے حصولِ منفعت یا دفعِ مضرت کی امید لگائی، اللہ تعالیٰ اسے اسی چیز کے سپرد کر دیتا ہے جس سے اس نے تعلق جوڑا ہو۔ پس جس نے اللہ سے ناطہ جوڑا، اس کے لیے اللہ کافی ہو جاتا ہے اور ہر مشکل کو اس کے لیے آسان کر دیتا ہے اور جو اللہ کو چھوڑ کر کسی اور سے تعلق جوڑتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے اسی چیز کے حوالے کر دیتا ہے اور اسے چھوڑ دیتا ہے۔
اسباق: جس نے (اللہ کو چھوڑ کر) کسی اور چیز سے امید لگائی، وہ ا…
- اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی اور سے لو لگانے کی ممانعت۔
- تمام امور میں اللہ تعالیٰ سے لو لگانے کا واجب ہونا۔
- شرک کے نقصان اور اس کے برے انجام کا بیان۔
- انسان کو بدلہ اسی جنس کا دیا جاتا ہے، جس جنس کا اس کے پاس عمل ہوتا ہے۔
- عمل کا اچھا یا برا نتیجہ عامل کے اعتبارسے نکلتا ہے۔
- اس شخص کی نامرادی، جو اللہ سے روگردانی کرے اور کسی اور سے نفع طلب کرے۔
موضوعات :
توحیدِ اُلوہیت
· دل کے اعمال
بسم الله الرحمن الرحيم
منگل 15 جمادی الاول
الثلاثاء 15 جمادى الأولى
اللهم صل على محمد
اے اللہ محمد پر درود بھیج