اسلام > Ur > حدیث > فقہ و اصول فقہ > جس نے اللہ کے راستے یعنی جہاد میں تیر چلایا تو اس کا یہ تیر چلانا ایک غلام آزاد کرنے کے بر…
صحیح27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا
📖 1 منٹ مطالعہعن عمرو بن عَبَسَة رضي الله عنه قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «من رمى بسهم في سبيل الله فهو له عِدْلُ مُحَرَّرَةٍ».
حدیث کا مفہوم: جس نے اللہ کے دشمنوں کے چہروں میں ایک تیر مارا اسے اس شخص کے مساوی اجر ملتا ہے جس نے اللہ کی راہ میں کوئی غلام آزاد کر دیا ہو چاہے یہ تیر دشمن کو لگے یا نہ لگے جیسا کہ سنن نسائی کی روایت میں وضاحت ہے کہ ”جس نے اللہ کے راستے میں ایک تیر مارا اور وہ دشمن تک پہنچا یا نہ پہنچا“۔ اگر یہ دشمن کو لگ جائے تو اس کے بدلے میں اسے جنت میں ایک درجہ ملتا ہے جیسا کہ ابو داؤد کی روایت میں ہے کہ ”جس کا اللہ کے راستے میں مارا ہوا تیر نشانے پر لگ گیا اس کے لیے ایک درجہ ہے‘‘۔
اور احمد کی روایت میں ہے کہ "جنت میں (ایک درجہ ہے)“۔
موضوعات : جہاد کی فضیلت