رسول اللہ ﷺ نے مال غنیمت تقسیم کرتے ہوئے گھوڑے کو دو حصے دیے اور اس کے سوار کو ایک حصہ دیا…

اسلام > Ur > حدیث > فقہ و اصول فقہ > رسول اللہ ﷺ نے مال غنیمت تقسیم کرتے ہوئے گھوڑے کو دو حصے دیے اور اس کے سوار کو ایک حصہ دیا…

حدیث کے راوی: متفق علیہ

صحیح

27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا

📖 1 منٹ مطالعہ

حدیث کا متن: رسول اللہ ﷺ نے مال غنیمت تقسیم کرتے ہوئے گھوڑے کو دو حص…

عن عبد الله بن عمر رضي الله عنهما «أَنَّ رَسُولَ الله صلى الله عليه وسلم قَسَمَ فِي النَّفَلِ: لِلْفَرَسِ سَهْمَيْنِ، وَلِلرَّجُلِ سَهْمًا».

حدیث کی وضاحت: رسول اللہ ﷺ نے مال غنیمت تقسیم کرتے ہوئے گھوڑے کو دو حص…

عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بىان كررہے ہیں کہ نبی ﷺ نے مال غنیمت تقسیم کرتے ہوئے گھوڑے کے دو حصے اور آدمی کا ایک حصہ رکھا؛ یعنی وہ مجاہد جو جنگ میں اپنے گھوڑے کے ساتھ شریک ہوتا ہے وہ تین گنا زیادہ حصہ لیتا ہے اس مجاہد کے بنسبت جو بغیر گھوڑے کے شریک ہوتا ہے۔ کیوںکہ جنگ میں گھوڑا اس آدمی کی بہ نسبت زیادہ فائدہ مند ہوتا ہے اور زیادہ لڑتا ہے جس کے پاس گھوڑا نہ ہو۔ قرآن کریم میں بھی اس بات کی طرف اشارہ موجود ہے۔ اللہ تعالی فرماتے ہیں: ”فَالْمُغِيرَاتِ صُبْحاً فَأَثَرْنَ بِهِ نَقْعاً فَوَسَطْنَ بِهِ جَمْعاً“ (العاديات: 3-5) ترجمہ: پھر صبح کے وقت دھاوا بولنے والوں کی قسم، پس اس وقت گرد وغبار اڑاتے ہیں، پھر اسی کے ساتھ فوجیوں کے درمیان گھس جاتے ہیں۔ اس آیت میں گھوڑے کی تعریف ہے اور جنگ میں اس کے فائدے کی طرف اشارہ ہے۔ اور نبی ﷺ نے فرمایا: ”گھوڑوں کی پیشانیوں میں قیامت تک کے لئے بھلائی رکھ دی گئی ہے“۔ ان الفاظ کے ساتھ اس حدیث کو امام بخاری (حدیث نمبر: 2849) اور امام مسلم (حديث نمبر: 1871) نے روایت کیا ہے۔

موضوعات : جہاد کے احکام اور مسائل

بسم الله الرحمن الرحيم منگل 15 جمادی الاول
الثلاثاء 15 جمادى الأولى
بدر پورا چاند دن 16.5 / 29.5
روشنی 97%
نیا چاند 13 دنوں میں
الله أكبر اللہ سب سے بڑا ہے

إِنَّ ٱللَّهَ وَمَلَٰٓئِكَتَهُۥ يُصَلُّونَ عَلَى ٱلنَّبِىِّ ۚ يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ صَلُّوا۟ عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا۟ تَسْلِيمًا

خدا اور اس کے فرشتے پیغمبر پر درود بھیجتے ہیں۔ مومنو تم بھی ان پر دُرود اور سلام بھیجا کرو

Al-Ahzab 33:56

نبی پر درود