اسلام > Ur > حدیث > فقہ و اصول فقہ > جو شخص (میدانِ جہاد میں) کسی کو قتل کرے اور اس پر گواہی موجود ہو تو اس سے چھینا ہوا (مال) …
صحیح27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا
📖 1 منٹ مطالعہعن أبي قتادة الأنصاري رضي الله عنه قال: «خَرَجْنَا مَعَ رَسُول الله صلى الله عليه وسلم إلَى حُنَيْنٍ -وَذَكَرَ قِصَّةً- فَقَالَ رَسُولُ الله صلى الله عليه وسلم : مَنْ قَتَلَ قَتِيلاً لَهُ عَلَيْهِ بَيِّنَةٌ فَلَهُ سَلَبُهُ» قَالَهَا ثَلاثاً.
نبی کریم ﷺ نے غزوۂ حنین کے موقع پر فرمایا کہ جو شخص کسی(کافر) کو قتل کرے گا اور اس بات پر اس کے پاس کوئی گواہ یا دلیل ہو گی تو جو کچھ اس سے چھینا ہوگا وہ اسی کا ہوگا۔ یعنی مقتول کے کپڑے، اسلحہ اور وہ سواری جس پر اسے قتل کیا تھا۔حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے ایک (کافر) شخص کو قتل کیا اور جو ان کے اردگرد موجود تھے ان سے کہا کہ: اس شخص کو میں نے قتل کیا ہے اور جس جس کو بھی پتہ ہے میں اسے قسم دیتا ہوں کہ وہ میرے لیے گواہی دے۔ یہ بات انھوں نے تین مرتبہ کہی۔
موضوعات : جہاد کے احکام اور مسائل