اسلام > Ur > حدیث > فقہ و اصول فقہ > اے انصاریو! کیا میں نے تمہیں گمراہ نہیں پایا تھا پھر تم کو میرے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے ہدایت…
صحیح27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا
📖 2 منٹ مطالعہعن عبد الله بن زيد بن عاصم قال: «لما أفَاء الله على رسوله يوم حُنَيْنٍ؛ قَسَم في الناس، وفي المُؤَلَّفَةِ قلوبهم، ولم يعطِ الأنصار شيئا. فكأنهم وجدوا في أنفسهم؛ إذ لم يُصِبْهُمْ ما أصاب الناس.
فخطبهم؛ فقال: يا معشر الأنصار، ألم أجدكم ضُلاَّلاً فهداكم الله بي؟ وكنتم متفرقين فَأَلَّفَكُمُ الله بي؟ وَعَالَةً فأغناكم الله بي؟ كلما قال شيئًا؛ قالوا: اللهُ ورسولُه أمَنُّ. قال: ما يمنعكم أن تجيبوا رسول الله؟ قالوا: الله ورسوله أمَنُّ. قال: لو شِئْتُمْ لقلتم: جئتنا كذا وكذا. أَلَا تَرْضَوْنَ أن يذهب الناس بالشاة والبعير، وتذهبون برسول الله إلى رحَالِكُم؟ لولا الهجرة لكنت امْرَأً من الأنصار، ولو سلك الناس واديًا أو شِعْبًا، لَسَلَكْتُ وادي الأنصار وَشِعْبَهَا. الأنصار شِعَارٌ، والناس دِثَارٌ، إنكم ستلقون بعدي أَثَرَةً ، فاصبروا حتى تلقوني على الحوض».
جب غزوہ حنین میں اللہ تعالی نے اپنے نبی محمد ﷺ کو فتح سے نوازا اور آپ ﷺ کے ہاتھ بہت سارا مال غنيمت آيا تو طائف کا حصار ختم کرنے کے بعد آپ ﷺ اس مال غنیمت کے پاس تشریف لائے۔ چنانچہ نبی ﷺ نے یہ سارا مال ان لوگوں میں بانٹ دیا جو نئے نئے اسلام لائے تھے تاکہ ان کی دل جوئی ہو جائے۔ یہ بات کچھ انصاری لوگوں کو پسند نہ آئی۔ رہے سرکردہ انصاری صحابہ تو وہ خوب اچھی طرح جانتے تھے کہ آپﷺ نے جو اقدام کیا ہے وہ برحق ہے۔ جب آپ ﷺ تک ان کی یہ بات پہنچی کہ رسول اللہ ﷺ ان لوگوں کو مال غنیمت دیتے جا رہے ہیں جن کا خون ہماری تلواروں سے ہنوز ٹپک رہا ہے اور ہمیں چھوڑے جا رہے ہیں، تو آپ ﷺ نے انہیں ایک خیمے میں اکٹھا کرنے کا حکم دیا ۔ جب وہ اکٹھے ہو چکے تو آپ ﷺ نے فرمایا: یہ مجھ تک تمہاری کیا بات پہنچی ہے ۔ ۔ اخیر تک کا تذکرہ کیا۔ آپ ﷺ نے ان کی بات پر اظہارِ ناگواری کیا اور ساتھ ہی انھوں نے آپ ﷺ کی اور آپ کے لائے ہوئے اسلام کی جو نصرت و مدد کی تھی اس کو بھی تسلیم کیا۔ اس پر وہ خوش ہو گئے اور انہیں معلوم ہو گیا کہ یہ کتنی بڑی نعمت ہے جو اللہ نے اپنے رسول کی صحبت کی شکل میں اور آپ ﷺ کے ساتھ اپنے گھروں کو واپس جانے کی شکل میں ان کے لیے رکھ چھوڑی ہے۔ نیز انھوں نے جو خدمات اور قربانیاں پیش کی ہیں اس پر اللہ نے آخرت میں ان کے لیے جو حصہ محفوظ کر رکھا ہے وہ اس کے علاوہ ہے۔ پھر آپ ﷺ نے انہیں اس بات سےآگاہ کیا کہ آپ ﷺ کے بعد (دوسرے لوگوں کو ) ان پر ترجیح دی جائے گی، جس پر آپ ﷺ نے انہیں صبر کرنے کی تلقین کی۔
موضوعات : صحابہ رضی اللہ عنہم کے فضائل · جہاد کے احکام اور مسائل