اسلام > Ur > حدیث > فقہ و اصول فقہ > جس نے تیر اندازی کا فن سیکھا، پھر اس نے اسے چھوڑ دیا، وہ ہم میں سے نہیں، یا (فرمایا:) اس ن…
صحیح27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا
📖 1 منٹ مطالعہعن عقبة بن عامر رضي الله عنه مرفوعاً: «من عَلِمَ الرمي، ثم تركه، فليس منا، أو فقد عصى».
حدیث کا مفہوم: جس نے تیراندازی یا پھر جدید آلات جنگ جیسے بندوق وغیرہ کے ذریعے سے نشانہ بازی سیکھی اور پھر اس نے اسے چھوڑ دیا اور اس سلسلے میں لاپرواہی برتی تو اس نے اپنے آپ کو گناہ میں ملوث کردیا اور نبیﷺ کی سنت سے دور ہوگیا۔
”وہ ہم میں سے نہیں ہے“ یعنی وہ ہمارے طرزِعمل اور ہمارے طریقے پر قائم نہیں ہے۔ ”یا اس نے نافرمانی کی“ راوی کو اس میں شک ہے کہ آپ ﷺ نے وہ ہم میں سے نہیں ہے کہا تھا یا پھر اس نے نافرمانی کی کہا تھا۔
موضوعات : جہاد کے احکام اور مسائل