اسلام > Ur > حدیث > فقہ و اصول فقہ > بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے محمد ﷺ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا اور آپ پر کتاب نازل فرمائی۔ اللہ نے آ…
صحیح27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا
📖 1 منٹ مطالعہعن عبد الله بن عباس رضي الله عنهما أن عمر بن الخطاب رضي الله عنه قال وهو جالس على منبر رسول الله صلى الله عليه وسلم : "إن الله قد بعث محمدًا صلى الله عليه وسلم بالحق، وأنزل عليه الكتاب، فكان مما أُنْزِلَ عليه آية الرجم، قَرَأْنَاَهَا وَوَعَيْنَاَهَا وعَقِلْنَاَهَا، فَرَجَمَ رسول الله صلى الله عليه وسلم ، ورجمنا بعده، فأخشى إن طال بالناس زمان أن يقول قائل: ما نجد الرجم في كتاب الله فَيَضِلُّوا بترك فريضة أنزلها الله، وإن الرجم في كتاب الله حَقٌّ على من زنى إذا أَحْصَنَ من الرجال والنساء، إذا قامت البينة، أو كان الحَبَلُ، أو الاعتراف".
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ منبر پر چڑھے اور لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے فرمایا کہ بے شک اللہ تعالیٰ نے محمد ﷺ کو دینِ حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے اور وہ اسلام ہے۔ آپ ﷺ پر بہترین کتاب نازل فرمائی اور وہ قرآن ہے جس میں آیت رجم بھی نازل کی گئی جو کہ شادی شدہ زانی کے لیے تھی، اس کے الفاظ کو قرآن میں سے منسوخ کر دیا گیا جب کہ اس حکم کو باقی رکھا گیا۔ ان کو یہ ڈر پیدا ہوا کہ بعد میں آنے والے لوگ قرآن کریم کے اس حکم کے منکر نہ ہو جائیں اس لیے اس کو بیان کر دیا ۔اور یہ بالکل برحق ہے کہ کوئی بھی شادی شدہ شخص جب زنا کرے اور اس کا نکاح صحیح ثابت ہو جائے یا وہ اپنے زنا کا اقرار یا اعتراف کر لے یا پھر بغیر شادی کے حمل وجود میں آ جائے یا پھر عورتوں کے معاملات کا کوئی ماہر یہ بتا دے کہ یہ شادی شدہ ہے تو اس کی سزا رجم ہے۔ یہ وہ امور ہیں جو زانی کے لیے رجم کی سزا کو ثابت کرتے ہیں۔
موضوعات : حدِ زنا · امام کے واجبات