اسلام > Ur > حدیث > فقہ و اصول فقہ > عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ جب میری براءت کی آیات نازل ہوئیں تو نبی کریم ﷺمنبر پر کھ…
حَسَنْ27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا
📖 1 منٹ مطالعہعن عائشة رضي الله عنها قالت: «لما نَزَلَ عُذْرِي، قام النبي صلى الله عليه وسلم على المِنْبَر، فَذَكَرَ ذَاكَ، وتَلَا -تعني القرآن-، فلما نَزَلَ من المِنْبَر، أَمَرَ بِالرَّجُلَيْنِ والمرأة فَضُرِبُوا حَدَّهُمْ».
اس حدیث میں عائشہ رضی اللہ عنہا بتا رہی ہیں کہ جب ان پر لگائے گئے جھوٹے الزام سے برأت کی آیات نازل ہوئیں تو رسول اللہﷺ خطبہ کے لیے کھڑے ہوئے اور اس کے متعلق مسلمانوں کو اطلاع دی اور منبر پر آپ ﷺ نے قرآن کی ان آیات کی تلاوت فرمائی جو برأت کے لیے نازل ہوئیں تھیں۔ آپ ﷺ منبر سے نیچے اترے اور بہتان لگانے والے دو مردوں کو لایا گیا، ان میں سے ایک حسان بن ثابت اور دوسرے مسطح بن اثاثہ (رضی اللہ عنہما) تھے اور ایک عورت جو کہ حمنہ بنت جحش (رضی اللہ عنہا) تھی، ان کے جھوٹے ثابت ہونے کی وجہ سے ان پر بہتان کی حد قائم کی گئی(جو کہ اسّی کوڑے ہے)۔
موضوعات : حدِ قذف