اسلام > Ur > حدیث > حدیث و علوم حدیث > میری کسی بات کو نہ لکھو۔ جس نے مجھ سے قرآن کے علاوہ کوئی اور بات لکھی ہے وہ اسے مٹا دے، ال…
صحیح27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا
📖 2 منٹ مطالعہعن أبي سعيد الخدري أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «لا تكتبوا عني، ومَن كتب عني غيرَ القرآن فَلْيَمْحُه، وحدِّثوا عنِّي ولا حَرَج، ومَن كذب عليَّ -قال همام: أحسِبه قال: مُتعمِّدًا- فَلْيَتَبوَّأ مَقْعَدَه مِن النار».
نبی ﷺ نے (شروع میں) اپنے صحابہ کو اپنی کوئی بھی بات لکھنے سے منع کر دیا اور فرمایا کہ جس نے میری کسی بات کو لکھا ہو وہ اسے مٹا دے۔ پھر آپ ﷺ نے انہیں اپنی باتوں کو آگے بیان کرنے کی اجازت مرحمت فرمائی کہ ایسا کرنے میں ان پر کوئی گناہ نہیں بشرطیکہ وہ آپ ﷺ سے جس بات کو بھی نقل کریں اس میں سچائی کو پیش نظر رکھیں۔ آپ ﷺ نے انہیں تنبیہ فرمائی کہ جو شخص بھی آپ ﷺ کی طرف جان بوجھ کر کوئی جھوٹی بات منسوب کرے گا اس کی جزا جہنم کی آگ ہو گی۔
حدیث کو لکھنے کی ممانعت منسوخ ہو چکی ہے کیونکہ آپ ﷺ نے اس سے شروع شروع میں منع فرمایا تھا۔ کیونکہ احادیث بہت زیادہ ہو گئیں اور ہو سکتا تھا کہ حافظہ کچھ باتوں کو محفوظ نہ رکھ سکے چنانچہ آپ ﷺ نے لکھنے کی اجازت دے دی۔ آپ ﷺ نے اپنے خطبہ (حجۃ الوادع) میں فرمایا کے لیے ”ابو شاہ کو لکھ کر دے دو“۔ آپ ﷺ نے ایسا اس وقت فرمایا جب ابو شاہ رضی اللہ عنہ نے آپ ﷺ سے (خطبہ میں بیان کردہ احکام کو) لکھ کر دینے کی درخواست کی تھی۔ آپ ﷺ کے بارے میں آتا ہے کہ آپ ﷺ نے عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کو لکھنے کی اجازت دی۔ رسول اللہ ﷺ نے اپنی امت کو تبلیغ کا حکم دیا ہے۔ جب لکھا نہیں جائے گا تو اس سے علم ضائع ہو جائے گا۔ کہا جاتا ہے کہ اس ممانعت کا تعلق محض اس صورت کے ساتھ خاص ہے جب حدیث کو قرآن کے ساتھ ایک ہی صحیفہ میں لکھا جائے تا کہ اس کی قرآن کے ساتھ آمیزش نہ ہو جائے اور یوں قاری اشتباہ میں پڑ جائے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ ممانعت صرف نزولِ قرآن کے وقت کے ساتھ خاص تھی اس اندیشے کے تحت کہ کہیں قرآن کا کسی اور شے کے ساتھ التباس نہ ہو جائے۔ بعدازاں رسول اللہ ﷺ نے اس کی اجازت دے دی۔
پہلا احتمال یعنی اس ممانعت کا منسوخ ہونا ہی زیادہ راجح ہے۔
موضوعات : سنت نبوی کی تدوین