اسلام > Ur > حدیث > فقہ و اصول فقہ > میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ رسول اللہ ﷺ کی بیویوں کا مہر کتنا ہوتا تھا؟ انہوں ن…
صحیح27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا
📖 1 منٹ مطالعہعن أبي سلمة بن عبد الرحمن، أنه قال: سألت عائشة زوج النبي صلى الله عليه وسلم : كم كان صَداقُ رسول الله صلى الله عليه وسلم ؟ قالت: «كان صَدَاقُهُ لأزواجه ثِنْتَيْ عشرة أُوقِيَّةً ونَشَّاً»، قالت: «أتدري ما النَّشُّ؟» قال: قلت: لا، قالت: «نصف أُوقِيَّةٍ، فتلك خمسمائة درهم، فهذا صَدَاقُ رسول الله صلى الله عليه وسلم لأزواجه».
حدیث کا موضوع حق مہر میں تخفیف کا استحباب ہے۔ حق مہر اگرچہ مشروع ہے لیکن بہترین حق مہر وہی ہے جس کی ادائیگی آسان ہو اور وہ عورتیں بھی بہترین ہیں جو تھوڑے حق مہر پر رضا مند ہو جاتی ہیں۔ اس حدیث میں یہ بیان کیا جا رہا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اپنی بیویوں کو زیادہ سے زیادہ ساڑھے بارہ اوقیہ حق مہر دیا ہے۔ رسول اللہﷺ عادات و عبادات میں کامل نمونہ ہیں۔
ایک اوقیہ چالیس درہم کا ہوتا ہے، اس حساب سے یہ ساڑھے پانچ سو درہم بنتے ہیں۔ یہ آج کے لوگوں کے بالکل برعکس ہے جو لمبے چوڑے حق مہر باندھتے ہیں اور عورت نیز اس کے ورثاء کو جو مال ودولت دیتے ہیں اس پر فخر کرتے ہیں، خواہ خاوند غریب ہو یا امیر وہ یہی چاہتا ہے کہ اس معاملے میں وہ کسی سے پیچھے نہ رہے اور یہی شادی میں تاخیر کا سبب بن جاتا ہے۔
موضوعات : حق مہر