اسلام > Ur > حدیث > فقہ و اصول فقہ > باغ قبول کرلو اور اسے ایک طلاق دے دو۔
صحیح27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا
📖 2 منٹ مطالعہعن ابن عباس أن امرأة ثابت بن قيس أتت النبي صلى الله عليه وسلم فقالت: يا رسول الله، ثابت بن قيس، ما أعْتِبُ عليه في خُلُقٍ ولا دِيْنٍ، ولكني أكره الكفر في الإسلام، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «أتردين عليه حديقته؟» قالت: نعم، قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «اقبل الحديقة وطلقها تطليقة».
اس حدیث میں اس بات کا بیان ہے کہ ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ جو اکابرِ صحابہ میں سے تھے، ان کی بیوی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور آپ ﷺ کو بتایا کہ ثابت رضی اللہ عنہ میں انہیں ان کے اخلاق یا دین کے اعتبار سے کوئی بھی بات ناپسند نہیں ہے ۔اخلاقی اور دینی لحاظ سے وہ بہترین صحابہ میں سے ہیں تاہم انہیں یہ ناپسند ہے کہ اگر وہ ان کے ساتھ رہیں تو کہیں ان کے حق میں کوتاہی کی وجہ سے وہ خاوند کی نافرمانی کی مرتکب نہ ہو جائیں جب کہ خاوند کی نافرمانی اللہ کی شریعت کے مخالف ہے۔ ان كی ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کو ناپسند کرنے کی وجہ یہ تھی کہ وہ جسمانی طور پر بدنما تھے اور خوبصورت نہیں تھے جیسا کہ بعض روایات میں آیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ثابت رضی اللہ عنہ کے سامنے یہ بات رکھی کہ ان کی بیوی انہیں وہ باغ واپس کر دیتی ہے جو انہوں نے اسے بطور مہر دیا تھا اور وہ انہیں ایک طلاق دے دیں جس سے وہ ان سے الگ ہو جائے۔ ثابت رضی اللہ عنہ نے ایسا کر لیا۔ فقہاء رحمہم اللہ کے ہاں یہ حدیث خلع کے باب میں بنیادی دلیل کی حیثیت رکھتی ہے۔
موضوعات : خلع