جب زمانہ (قیامت کے) قریب ہو جائے گا تو مومن کا خواب جھوٹا نہیں ہوگا۔ اور مومن کا خواب نبوت…

اسلام > Ur > حدیث > فضائل و آداب > جب زمانہ (قیامت کے) قریب ہو جائے گا تو مومن کا خواب جھوٹا نہیں ہوگا۔ اور مومن کا خواب نبوت…

حدیث کے راوی: متفق علیہ

صحیح

27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا

📖 3 منٹ مطالعہ

حدیث کا متن: جب زمانہ (قیامت کے) قریب ہو جائے گا تو مومن کا خواب جھو…

عن أبي هريرة رضي الله عنه مرفوعاً: «إذا اقترب الزمان لم تَكَدْ رؤيا المؤمن تكذب، ورؤيا المؤمن جزء من ستة وأربعين جزءا من النبوة».
وفي رواية: «أصدقكم رؤيا، أصدقكم حديثا».

حدیث کی وضاحت: جب زمانہ (قیامت کے) قریب ہو جائے گا تو مومن کا خواب جھو…

حدیث کا مفہوم: آخری زمانے میں مومن کے خواب سچے ہوا کریں گے۔ بعض اوقات تو وہ کسی واقع شدہ چیز کے بارے میں،اور کبھی تو کسی آئندہ واقع ہونے والی چیز کے بارے میں خبر ہوتے ہیں، جو عین خواب کے مطابق واقع ہوتی ہے۔ اس قسم کے خواب اپنے مدلول کے سچ ثابت ہونے کے اعتبار سے نبوت کی وحی کی مانند ہیں۔

مومن کا خواب نبوت کا چھیالیسواں حصہ ہے۔ یعنی خواب نبوت کے علم کے اجزاء میں سے ہے بایں طور کہ اس میں غیب کی خبر ہوتی ہے۔ نبوت تو باقی نہیں رہی لیکن اس کا علم باقی ہے۔

چھیالیس کے عدد کو بطور خاص اس لئے ذکر کیا کیونکہ نبی ﷺ کی مدت عمر زیادہ تر صحیح روایات کے مطابق تریسٹھ سال کی تھی، جس میں نبوت کی مدت تیئیس سال تھی; کیونکہ آپ ﷺ کو اس وقت مبعوث کیا گیا جب آپ پورے چالیس سال کے ہو چکے تھے۔ آپ ﷺ بعثت سے قبل چھ ماہ تک سچے خواب دیکھتے رہے جو صبح کو ایسے حقیقت بنتے جیسے صبح کا تڑکا واضح ہوتا ہے۔ پھر آپ ﷺ نے حالت بیداری میں فرشتے کو دیکھا۔ اگر حالت خواب میں آنے والی وحی کی مدت جو کہ چھے ماہ ہے اور آپ ﷺ کی نبوت کی مدت جو کہ تیئیس سال ہے، کی باہمی نسبت کو دیکھا جائے تو چھہ مہینہ تیئیس حصوں کا نصف حصہ بنتا ہے، اور وہی چھیالیس حصوں میں سے ایک حصہ بنتا ہے۔

آپ ﷺ نے فرمایا: تم میں خواب کے اعتبار سے سب سے سچا وہ ہے جس کی بات سب سے زیادہ سچی ہے۔

اس کا معنی یہ ہے کہ جب بندہ اپنی بات میں سچا اور اللہ کے قریب ہوتا ہے تو غالب طور پر اس کا خواب سچ کے قریب تر ہوتا ہے۔ اسی لیے بخاری شریف کی ایک حدیث میں یہ قید لگائی گئی ہے کہ ”نیک شخص کا سچا خواب ...“

البتہ جو شخص بات میں سچا نہیں ہوتا اور وہ ظاہری و باطنی برائیوں کا ارتکاب کرتا ہے تو عام طور پر اس کا خواب اس کے ساتھ شیطان کے کھلواڑ کے قبیل سے ہوتا ہے۔

ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”جو شخص یہ چاہتا ہے کہ اس کے خواب سچے ہوں تو وہ سچ بولے، حلال کھائے، احکامات وممنوعات کا خیال کرے اور مکمل طہارت کے ساتھ قبلہ رخ ہو کر سوئے اور اللہ تعالی کا ذکر کرتا رہے یہاں تک کہ نیند اس پر غالب آ جائے، تو ایسے شخص کے خواب جھوٹے نہیں ہوں گے“۔

موضوعات : خواب کے آداب

بسم الله الرحمن الرحيم منگل 15 جمادی الاول
الثلاثاء 15 جمادى الأولى
بدر پورا چاند دن 16.6 / 29.5
روشنی 96%
نیا چاند 13 دنوں میں
سبحان الله اللہ کی تسبیح

إِنَّ ٱللَّهَ وَمَلَٰٓئِكَتَهُۥ يُصَلُّونَ عَلَى ٱلنَّبِىِّ ۚ يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ صَلُّوا۟ عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا۟ تَسْلِيمًا

خدا اور اس کے فرشتے پیغمبر پر درود بھیجتے ہیں۔ مومنو تم بھی ان پر دُرود اور سلام بھیجا کرو

Al-Ahzab 33:56

نبی پر درود