اسلام > Ur > حدیث > دعوت و احتساب > ان بے زبان جانوروں کے سلسلے میں الله سے ڈرو۔ لہٰذا مناسب طریقے سے ان پر سواری کرو اور معرو…
صحیح27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا
📖 1 منٹ مطالعہعن سهل بن عمرو رضي الله عنه قال: مرَّ رسول الله صلى الله عليه وسلم ببعير قد لَحِق ظَهْرُه ببَطْنِهِ، فقال: «اتقوا الله في هذه البهائم المُعْجَمة، فاركَبُوها صالحة، وكُلُوها صالحة».
نبی کریم ﷺ نے ایک اونٹ کو دیکھا جس کی کمر شدتِ بھوک کی وجہ سے اس کے پیٹ کے ساتھ لگی ہوئی تھی۔ تو آپ ﷺ نے جانوروں کے ساتھ نرمی کرنے کا حکم فرمایا۔ لہذا ہر انسان پر لازم ہے کہ وہ جانوروں کے ساتھ اچھا سلوک کرے اور ان پر ان کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہ ڈالے۔ اور ان کے کھانے پینے میں کوتاہی نہ کرے۔ اس (ان کا خیال رکھنے) کے بعد اگر وہ ان پر سواری کرے گا تو وہ سواری کے لائق ہوں گے اور اگر ان کو کھائے گا تو وہ کھانے کے لائق ہوں گے۔
موضوعات : اسلام میں جانوروں کے حقوق