اسلام > Ur > حدیث > فقہ و اصول فقہ > جو شخص میرے اس منبر کے پاس گناہ پر مبنی قسم کھائے گا، چاہے ایک مسواک کے بارے میں ہی کیوں ن…
صحیح27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا
📖 1 منٹ مطالعہعن جابر بن عبد الله قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «لا يحْلِفُ أحدٌ عند مِنْبَرِي هذا على يَمينٍ آثِمَة، ولو على سِواكٍ أَخْضَرَ، إلا تَبَوَّأَ مَقْعَدَه مِن النار -أو وَجَبَتْ له النار-».
اس حدیث میں جابر رضی اللہ عنہ بتا رہے ہیں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آدمی کے بہت بڑے گناہگار ہونے کی بات کہی ہے، جو مسجد نبوی میں رکھے ہوئے آپ کے منبر کے پاس جھوٹی قسم کھائے، چاہے اس نے قسم کسی حقیر چیز کے بارے میں ہی کیوں نہ کھائی ہو۔ کیونکہ یہ جگہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم اور آپ اس پر کھڑے ہوکر جو کچھ کہا کرتے تھے، اسے یاد کرنے کی جگہ ہے۔ جب کہ جھوٹی قسم کھانے والا ان باتوں کے برخلاف کام کرتا ہے۔ لہذا، وہ اس طرح کی وعید کا مستحق ہے۔ ویسے تو کسی بھی جگہ جھوٹی قسم کھانا اللہ کی ناراضگی کا باعث ہے، لیکن کسی مبارک جگہ پر اس کا گناہ بہت بڑھ جاتا ہے۔
موضوعات : دعوى جات اور ثبوت/ مقدمات اور ثبوت