اسلام > Ur > حدیث > فضائل و آداب > قیامت کے دن جس شخص کے بارے میں سب سے پہلے فیصلہ کیا جائے گا وہ شہید ہوگا اسے لایا جائے گا …
صحیح27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا
📖 1 منٹ مطالعہعن أبي هريرة رضي الله عنه قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «إن أول الناس يُقضى يوم القيامة عليه رجُل اسْتُشْهِدَ، فأُتي به، فعرَّفه نِعمته، فعرَفَها، قال: فما عَمِلت فيها؟ قال: قَاتَلْتُ فيك حتى اسْتُشْهِدْتُ. قال: كَذبْتَ، ولكنك قَاتَلْتَ لأن يقال: جَرِيء! فقد قيل، ثم أُمِرَ به فَسُحِب على وجهه حتى أُلقي في النار. ورجل تعلم العلم وعلمه، وقرأ القرآن، فأُتي به فعرَّفه نِعَمه فعرَفَها. قال: فما عملت فيها؟ قال: تعلمت العلم وعلمته، وقرأت فيك القرآن، قال: كَذَبْتَ، ولكنك تعلمت ليقال: عالم! وقرأت القرآن ليقال: هو قارئ؛ فقد قيل، ثم أُمِر به فَسُحِب على وجهه حتى ألقي في النار. ورجل وَسَّعَ الله عليه، وأعطاه من أصناف المال، فأُتي به فعرَّفه نِعَمه، فعرَفَها. قال: فما عملت فيها؟ قال: ما تركت من سبيل تُحِبُّ أن يُنْفَقَ فيها إلا أنفقت فيها لك. قال: كَذَبْتَ، ولكنك فعلت ليقال: جواد! فقد قيل، ثم أُمِر به فَسُحِب على وجهه حتى ألقي في النار».
قیامت کے دن سب سے پہلے جن لوگوں کا حساب کتاب ہوگا وہ تین لوگ ہوں گے۔ دکھاوے کے لیے علم حاصل کرنے والا، دکھاوے کے لیے جہاد کرنے والا اور دکھاوے کے لیے صدقہ کرنے والا۔ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ انہیں حاضر کرے گا، انہیں اپنی نعمتیں جَتوائے گا یہ ان نعمتوں کو جان لیں گے۔ پھر ان سے پوچھا جائے گا کہ ان نعمتوں کی قدردانی میں تم نے کیا کیا۔ پہلا کہے گا میں نے تیری رضا کے لیے علم سیکھا اور قرآن پڑھا۔ اللہ فرمائے گا تو جھوٹا ہے، بلکہ تو نے اس لیے علم سیکھا تاکہ تجھے عالم کہا جائے اور اس لیے قرآن پڑھا تاکہ تجھے قاری کہا جائے۔ اللہ کی رضا کے لیے نہیں کیا بلکہ دکھاوے کے لیے کیا۔اس کے بارے میں حکم دیا جائے گا کہ اسے گھسیٹ کر جہنم میں ڈال دیا جائے۔ اسی طرح ایسا ہی سلوک ان کے بعد والوں کے ساتھ ہوگا۔
موضوعات : دل کے امراض