اسلام > Ur > حدیث > فقہ و اصول فقہ > ”بے شک اللہ نے ہر کام کو اچھے طریقے سے کرنا ضروری قرار دیا ہے
صحيح27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا
📖 1 منٹ مطالعہعَنْ أَبِي يَعْلَى شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ اللهَ كَتَبَ الْإِحْسَانَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ، فَإِذَا قَتَلْتُمْ فَأَحْسِنُوا القِتْلَةَ، وَإِذَا ذَبَحْتُمْ فَأَحْسِنُوا الذِّبْحَةَ، وَلْيُحِدَّ أَحَدُكُمْ شَفْرَتَهُ، وَلْيُرِحْ ذَبِيحَتَهُ».
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ اللہ تعالی نے ہمارے اوپر تمام چیزوں میں احسان فرض کیا ہے۔ جب کہ احسان کا مطلب ہے ہمیشہ اللہ تعالی کا دھیان اپنے ذہن میں رکھنا۔ اس کی عبادت کرتے وقت اور بھلائی کرتے وقت اور لوگوں کی تکلیف دور کرتے وقت۔ قتل اور ذبح کرتے وقت احسان کرنا بھی اس میں داخل ہے۔
کسی کو بطور قصاص قتل کرتے وقت احسان یہ ہے کہ قتل کا سب سے آسان، سب سے ہلکا اور سب سے تیز طریقہ اختیار کیا جائے۔
جب کہ ذبح کرتے وقت احسان یہ ہے کہ جانور پر رحم کرتے ہوئے ہتھیار کو تیز کر لیا جائے، ہتھیار کو ذبیحے کی نظروں کے سامنے تیز نہ کیا جائے اور ایک جانور کے سامنے دوسرا جانور ذبح نہ کیا جائے۔
موضوعات : ذبح کرنا · اخلاقِ حمیدہ/ اچھے اخلاق