اسلام > Ur > حدیث > فقہ و اصول فقہ > جو شخص فوت ہو جائے اور اس کے ذمے روزے ہوں تو اس کا وارث اس کی طرف سے روزے رکھے۔
صحیح27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا
📖 1 منٹ مطالعہعن عائشة رضي الله عنها أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «من مات وعليه صِيَامٌ صَامَ عنه وَلِيُّهُ».
عائشہ رضی اللہ عنہا بتا رہی ہیں کہ نبی ﷺ نے حکم دیا کہ اگر کوئی شخص مر جائے اور اس کے ذمہ کوئی فرض روزہ جیسے نذر، کفارے یا رمضان کی قضا کا روزہ ہو تو اس کا وارث اس کی طرف سے روزہ رکھے۔ کیونکہ یہ اس پر قرض ہے اور اس کی طرف سے ادائیگی کی سب سے زیادہ ذمہ داری اس کے قریب ترین رشتہ دار پر آتی ہے۔کیونکہ یہ اس کے ساتھ حسن سلوک، نیکی اور صلہ رحمی میں آتا ہے۔ یہ حکم مستحب ہے نہ کہ واجب۔
موضوعات : روزے کی قضاء