اسلام > Ur > حدیث > فقہ و اصول فقہ > اے عمر! کیا تم نہیں جانتے کہ آدمی کا چچا اس کے باپ کی مانند ہوتا ہے؟
صحیح27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا
📖 2 منٹ مطالعہعن أبي هريرة رضي الله عنه قال: «بعث رسول الله صلى الله عليه وسلم عمر رضي الله عنه على الصدقة. فقيل: منع ابن جميل وخالد بن الوليد، والعباس عم رسول الله صلى الله عليه وسلم . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم ما يَنْقِم ابن جميل إلا أن كان فقيرا: فأغناه الله؟ وأما خالد: فإنكم تظلمون خالدا؛ فقد احْتَبَسَ أَدْرَاعَهُ وَأَعْتَادَهُ في سبيل الله. وأما العباس: فهي عليَّ ومثلها. ثم قال: يا عمر، أما شَعَرْتَ أن عمَّ الرجل صِنْوُ أبيه؟».
نبی ﷺ نے عمر بن الخطاب کو زکوٰۃ وصول کرنے کے لیے بھیجا۔ جب عمر رضی اللہ عنہ عباس بن عبد المطلب کے پاس زکوٰۃ لینے آئے تو انہوں نے زکوۃ دینے سے انکار کر دیا اور ایسا ہی خالد بن ولید اور ابن جمیل نے کیا۔
عمر رضی اللہ عنہ نبی ﷺ کے پاس آئے اور ان تینوں کی شکایت کی۔
تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ ابن جمیل کے پاس تو نہ دینے کا کوئی عذر نہیں ماسوا اس کے کہ وہ ایک فقیر شخص تھا جسے اللہ نے امیر بنا دیا۔ اس امیری کا تقاضا تو یہ ہے کہ وہ سب سے پہلے زکوٰۃ ادا کرے۔
خالد کے بارے میں یہ کہہ کر کہ انہوں نے زکوۃ دینے سے انکار کر دیا ہے تم ان پر ظلم کر رہے ہو۔ اس نے تو اپنی زرہیں اور سامانِ جنگ اللہ کی راہ میں وقف کردیا ہے۔ لہٰذا ایک ایسا آدمی کس طرح زکوٰۃ روک سکتا ہے جو ایسی چیز خرچ کرکے اللہ کی قربت حاصل کرتاہے جو اس پر واجب نہیں ہے، پھر وہ ایسی چیز سے انکار کردے جو اللہ نے اس پر واجب کیا ہے، یہ بہت دور کی بات ہے۔ رہی بات عباس رضی اللہ عنہ کی تو آپ ﷺ نے ان کی طرف سے ادائیگی کی ذمہ داری لی ہے۔ ہو سکتا ہے کہ آپ ﷺ نے ایسا ان کے مقام و منزلت کے پیش نظر کیا ہو، جیساکہ آپ ﷺ کے اس فرمان سے پتہ چلتا ہے: کیا تم نہیں جانتے کہ آدمی کا چچا اس کے باپ کی مانند ہوتا ہے؟۔
موضوعات : زکوۃ سے متعلق احکام اور مسائل