اسلام > Ur > حدیث > فضائل و آداب > مسکین وہ نہیں، جسے ایک دو کھجوریں یا ایک دو لقمے ہی واپس لوٹا دیتے ہیں، بلکہ مسکین تو وہ ہ…
صحیح27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا
📖 1 منٹ مطالعہعن أبي هريرة رضي الله عنه أَنَّ رسُولَ اللَّه -صَلّى اللهُ عَلَيْهِ وسَلَّم- قَالَ: «لَيسَ المِسْكِين الَّذِي تَرُدُّهُ التَّمْرَة والتَّمْرَتَان، وَلا اللُّقْمَةُ واللُّقْمَتَان، إِنَّمَا المِسْكِين الَّذِي يَتَعَفَّف».
یہ حدیث مسکین کی حقیقت واضح کر رہی ہے کہ مساکین میں سے قابل تعریف، صدقے کا حق دار اور اس کا ضرورت مند وہ ہے، جو سوال نہیں کرتا۔ گھوم پھر کر مانگنے والے شخص سے آپ ﷺ نے مسکینیت کی نفی کی؛ کیوں کہ اس تک بقدر کفایت سامان وغیرہ پہنچتا رہتا ہے۔ بعض اوقات اسے زکوٰۃ مل جاتی ہے، جس سے اس کی ضرورت پوری ہو جاتی ہے۔ ضرورت تو اس شخص کی باقی رہتی ہے، جو مانگتا نہیں ہے اور بطور شفقت اسے کوئی کچھ دیتا بھی نہیں ہے۔
موضوعات : زہد اور تقوی