اسلام > Ur > حدیث > فضائل و آداب > ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا ایک غلام تھا جو انہیں کچھ خراج دیا کرتا تھا اور آپ اس کا خراج …
صحیح27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا
📖 2 منٹ مطالعہعن عائشةَ رضي الله عنها ، قالت: كانَ لأبي بكرٍ الصديق رضي الله عنه غُلامٌ يُخرِجُ له الخَرَاجَ، وكانَ أبو بكرٍ يأكلُ من خراجِهِ، فجاءَ يوماً بشيءٍ، فأكلَ منه أبو بكرٍ، فقالَ له الغلامُ: تَدرِي ما هذا؟ فقالَ أبو بكرٍ: وما هُو؟ قالَ: كُنتُ تَكَهَّنْتُ لإنسانٍ في الجاهليةِ وما أحسِنُ الكهانَةَ، إلا أني خدعتُهُ، فلَقِيَني، فأعطَانِي لِذلك، هذا الذي أَكَلْتَ منه، فأدخلَ أبو بكرٍ يدَهُ فقاءَ كلَّ شيءٍ في بطنِهِ.
ابوبکر رضی اللہ نے اپنے اس غلام کے ساتھ یہ طے کیا کہ وہ آپ کو روزانہ کچھ خوراک دیا کرے گا۔ ایک دن یہ غلام ابوبکر رضی اللہ عنہ کے لیے کچھ کھانا لے کر آیا جسے آپ نے کھا لیا۔ وہ غلام کہنے لگا: کیا آپ جانتے ہیں کہ یہ کیسا کھانا تھا؟ آپ رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ یہ کیسا کھانا تھا؟۔ اس نے جواب دیا کہ یہ اس کہانت کی اجرت ہے جو میں نے زمانہ جاہلیت میں کی تھی حالانکہ مجھے کہانت اچھی طرح نہیں آتی تھی اور میں نے اس آدمی کو دھوکہ دیا تھا۔ وہ مجھے آج ملا تو اس نے مجھے یہ کھانا دیا۔ کہانت کا عوض حرام ہے چاہے کاہن کو فن کہانت اچھی طرح آتا ہو یا نہ آتا ہو کیونکہ نبی ﷺ نے کہانت کی اجرت سے منع فرمایا ہے۔ (صحیح بخاری وصحیح مسلم)
جب اس نے یہ بات ابو بکر رضی اللہ عنہ سے کہی تو آپ نے اپنے ہاتھ کو منہ میں ڈال کر اپنے پیٹ میں موجود وہ سب کچھ نکال دیا جو آپ نے کھایا تھا تاکہ آپ کے پیٹ میں حرام غذا نہ جائے۔ یہ حرام مال تھا کیونکہ یہ حرام شے کا عوض تھا۔ حرام فعل کی اجرت لینا بھی حرام ہوتا ہے۔
موضوعات : زہد اور تقوی