اسلام > Ur > حدیث > فقہ و اصول فقہ > سورۃ ص کا سجدہ کچھ تاکیدی سجدوں میں سے نہیں ہے حالانکہ میں نے یہاں نبی ﷺ کو سجدہ کرتے ہوئے…
صحیح27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا
📖 1 منٹ مطالعہعن ابن عباس رضي الله عنهما قال: «ص ليس من عَزَائِمِ السُّجود، وقد رأيت النبي صلى الله عليه وسلم يَسجد فيها».
”سورہ ص کا سجدہ کچھ تاکیدی سجدوں میں سے نہیں ہے“ کا مطلب یہ ہے کہ سورہ ص میں جو سجدۂ تلاوت ہے وہ واجب نہیں ہے۔ اس لیے کہ اس کے کرنے پر کوئی تاکیدی حکم وارد نہیں ہوا، بلکہ خبر دینے کے الفاظ میں اس کا کرنا وارد ہوا ہے کہ داؤد علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے توبہ کرتے ہوئے یہ سجدہ فرمایا تھا، جب اللہ تعالیٰ نے داؤد علیہ السلام کی توبہ قبول کرکے ان کی مغفرت کے ذریعے ان پر انعام فرمایا تو آپ ﷺ نے شکریہ کے طور پر یہ سجدہ ادا فرمایا۔ سنن نسائی کی روایت بھی اس پر دلالت کرتی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا ”سَجَدَهَا دَاوُدُ تَوْبَةً وَنَسْجُدُهَا شُكْرًا“ یعنی ”داود علیہ السلام نے یہ سجدہ توبہ کے لیے کیا تھا اور ہم یہ سجدہ (توبہ کی قبولیت پر) شکر ادا کرنے کے لیے کر رہے ہیں“۔
موضوعات : سجدہ سہو، سجدہ تلاوت اور سجدہ شکر