رسول الله آ اپنی اونٹنی پر نفل نماز سر کے اشاروں سے پڑھتے تھے، چاہے اس کا رخ جس جانب بھی ہ…

اسلام > Ur > حدیث > فقہ و اصول فقہ > رسول الله آ اپنی اونٹنی پر نفل نماز سر کے اشاروں سے پڑھتے تھے، چاہے اس کا رخ جس جانب بھی ہ…

حدیث کے راوی: اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔ - متفق علیہ

صحیح

27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا

📖 1 منٹ مطالعہ

حدیث کا متن: رسول الله آ اپنی اونٹنی پر نفل نماز سر کے اشاروں سے پڑھ…

عن عبد الله بن عمر رضي الله عنهما «أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يُسَبِّحُ على ظَهرِ رَاحِلَتِه حَيثُ كان وَجهُهُ، يُومِئُ بِرَأسِهِ، وكَان ابنُ عُمرَ يَفعَلُهُ».
وفي رواية: «كان يُوتِرُ على بَعِيرِه».
ولمسلم: «غَيرَ أنَّه لا يُصَلِّي عَليهَا المَكتُوبَة».
وللبخاري: «إلا الفَرَائِض».

حدیث کی وضاحت: رسول الله آ اپنی اونٹنی پر نفل نماز سر کے اشاروں سے پڑھ…

نبی ﷺ صرف نفل نماز اپنی سواری پر پڑھا کرتے تھے، چاہے وہ آپ ﷺ کوجس جانب بھی لے جا رہی ہوتی اور اگرچہ وہ قبلہ رخ نہ بھی ہوتی۔ اپنے سر کے اشارے سے رکوع و سجدہ کرلیتے۔ رکوع، سجدہ اور قبلہ رو ہونے کے لیے اپنی سواری سے نیچے کا تکلف نہیں فرماتے تھے۔ چاہے نماز مطلق نفل ہوتی، سنت موکدہ ہوتی یا پھر کسی سبب کی وجہ سے پڑھی جانے والی کوئ نماز ہوتی۔ البتہ فرض نمازوں میں آپ ﷺ ایسا نہیں کرتے تھے۔ اسی طرح آپ ﷺ وتر بھی اپنے اونٹ پر ہی ادا کر لیا کرتے تھے۔

موضوعات : سفر کے آداب اور احکام · نفل نماز

بسم الله الرحمن الرحيم منگل 15 جمادی الاول
الثلاثاء 15 جمادى الأولى
بدر پورا چاند دن 16.5 / 29.5
روشنی 97%
نیا چاند 13 دنوں میں
سبحان الله اللہ کی تسبیح

إِنَّ ٱللَّهَ وَمَلَٰٓئِكَتَهُۥ يُصَلُّونَ عَلَى ٱلنَّبِىِّ ۚ يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ صَلُّوا۟ عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا۟ تَسْلِيمًا

خدا اور اس کے فرشتے پیغمبر پر درود بھیجتے ہیں۔ مومنو تم بھی ان پر دُرود اور سلام بھیجا کرو

Al-Ahzab 33:56

نبی پر درود