سفر عذاب کا ایک ٹکڑا ہے۔

اسلام > Ur > حدیث > فضائل و آداب > سفر عذاب کا ایک ٹکڑا ہے۔

حدیث کے راوی: متفق علیہ

صحیح

27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا

📖 1 منٹ مطالعہ

حدیث کا متن: سفر عذاب کا ایک ٹکڑا ہے۔

عن أبي هريرة رضي الله عنه مرفوعاً: «السفر قطعة من العذاب، يمنع أحدكم طعامه وشرابه ونومه، فإذا قضى أحدكم نَهْمَتَهُ من سفره، فليُعَجِّلْ إلى أهله».

حدیث کی وضاحت: سفر عذاب کا ایک ٹکڑا ہے۔

نبیﷺ اس حدیث میں بتا رہے ہیں کہ سفر عذاب کا ایک ٹکڑا ہے، یعنی یہ عذاب کا ایک حصہ ہے۔ عذاب سے مراد یہاں وہ تکلیف ہے جو مشقت کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے کیوں کہ سواری اور چلنے پھرنے میں بندہ اپنی عمومی روٹین کو چھوڑ دیتا ہے۔

آپ ﷺ نے فرمایا کہ:”آدمی کو کھانے پینے اور سونے (ہر ایک چیز ) سے روک دیتا ہے“ یعنی یہ اشیاء اسے بطریق احسن اور اس طرح اسے نہیں ملتی جس میں اسے لذت حاصل ہو کیوں کہ سفر میں دشواری و تکان لاحق ہوتی ہے اور گرمی و سردی، خوف اور گھر والوں اور ساتھیوں کی جدائی جھیلنی پڑتی ہے اور دشواری کی حالت میں زندگی گزارنا پڑتی ہے کیوں کہ مسافر کا دل اپنے سفر میں مشغول ہوتا ہے۔ چنانچہ عام دنوں میں جس طرح سے وہ کھاتا پیتا ہے دوران سفر وہ ویسے نہیں کھاتا پیتا۔ یہی حال اس کی نیند کا ہوتا ہے۔ جب سفر میں ان سب کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو انسان کو چاہیے کہ وہ اپنے گھر بار اور اپنے علاقے کی طرف لوٹ آئے تاکہ وہ اپنے اہل و عیال کی دیکھ بھال اور تادیب کر سکے۔

موضوعات : سفر کے آداب اور احکام

بسم الله الرحمن الرحيم منگل 15 جمادی الاول
الثلاثاء 15 جمادى الأولى
بدر پورا چاند دن 16.6 / 29.5
روشنی 96%
نیا چاند 13 دنوں میں
أستغفر الله میں اللہ سے مغفرت مانگتا ہوں

إِنَّ ٱللَّهَ وَمَلَٰٓئِكَتَهُۥ يُصَلُّونَ عَلَى ٱلنَّبِىِّ ۚ يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ صَلُّوا۟ عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا۟ تَسْلِيمًا

خدا اور اس کے فرشتے پیغمبر پر درود بھیجتے ہیں۔ مومنو تم بھی ان پر دُرود اور سلام بھیجا کرو

Al-Ahzab 33:56

نبی پر درود