اسلام > Ur > حدیث > فضائل و آداب > بے شک تمہارا ان گروہوں اور وادیوں میں بکھر جانا شیطان کی طرف سے ہے۔
صحیح27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا
📖 1 منٹ مطالعہعن أبي ثَعْلَبَة الخُشَني رضي الله عنه قال: كان الناس إذا نزلوا منزلًا تفرقوا في الشِّعابِ والأَوْدِيَةِ، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «إن تَفَرُّقَكم في هذه الشِّعاب والأَوْدِية إنما ذلكم من الشيطان». فلم ينزلوا بعد ذلك منزلاً إلا انضم بعضهم إلى بعض.
لوگ جب سفر میں کسی جگہ پڑاؤ ڈالتے تو مختلف گروہوں اور وادیوں میں بکھر جاتے ۔ تو نبئ کریم ﷺ نے انھیں بتلایا کہ ان کا یوں بکھر جانا شیطان کی طرف سے ہوتا ہے، کہ وہ اللہ کے دوستوں کو ڈرائے اور اس کے دشمنوں کو بھڑکائے پھر اس کے بعد وہ جب بھی کہیں پڑاؤ ڈالتے تو سب ایک دوسرے کے ساتھ مل جل کر اکٹھے رہتے، یہاں تک کہ اگر ان پر چادر ڈال دی جائے تو ان کی شدید قربت کی بناء پر چادر بھی کشادہ ہو جائے۔
موضوعات : سفر کے آداب اور احکام