جب تم ہریالی کے زمانے میں سفر کرو تو ان اونٹوں کو زمین میں سے ان کا حق دو ( یعنی گھاس چرنے…

اسلام > Ur > حدیث > فضائل و آداب > جب تم ہریالی کے زمانے میں سفر کرو تو ان اونٹوں کو زمین میں سے ان کا حق دو ( یعنی گھاس چرنے…

حدیث کے راوی: اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔

صحیح

27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا

📖 2 منٹ مطالعہ

حدیث کا متن: جب تم ہریالی کے زمانے میں سفر کرو تو ان اونٹوں کو زمین…

عن أبي هريرة رضي الله عنه مرفوعاً: «إذا سافرتم في الخِصْب، فأَعْطُوا الإبل حظَّها من الأرض، وإذا سافرتم في الجَدْب، فأَسْرِعوا عليها السَّيْر، وبادروا بها نِقْيَها، وإذا عَرَّسْتُم، فاجتنبوا الطريق؛ فإنها طُرُق الدَّوَابِّ، ومَأْوَى الهَوَامِّ بالليل»

حدیث کی وضاحت: جب تم ہریالی کے زمانے میں سفر کرو تو ان اونٹوں کو زمین…

حدیث میں انسان اور چوپایوں دونوں ہی کے مصالح کا خیال رکھا گیا ہے کہ نبی ﷺ نے مسافروں کو ان آداب کے ملحوظ رکھنے کی تعلیم دی۔

مسافر جب کسی چوپائے مثلاً اونٹ، گدھے، خچر یا گھوڑے پر سوار ہو کر سفر کر رہا ہو تو اسے چاہیے کہ وہ چرنے اور چلنے میں اس کی سہولت کا خیال رکھے کیوں کہ وہ اس کا ذمہ دار ہے۔ اگر وہ ایسے وقت میں سفر کر رہا ہو جس میں کھیتی اور چارے کی کثرت ہو تو اسے چاہیے کہ وہ آہستہ آہستہ سفر کرے اور جلدی نہ کرے تاکہ چوپائے اتنا چر سکیں جتنا ان کا حق ہے۔ اور جب وہ ایسے وقت میں سفر کرے جس میں کھیتی اور چارے وغیرہ کی قلت ہو تو پھر چوپائے کی طاقت کے لحاظ سے تیزی کے ساتھ سفر کرے تاکہ چوپائے کو تھکا نہ دے۔

اسی طرح نبی ﷺ نے مسافر کو حکم دیا کہ رات کو جب وہ آرام اور نیند کے لئے قیام کرے تو راستے میں پڑاؤ نہ ڈالے کیوں کہ راستے مسافروں کے جانوروں کی گزرگاہ ہیں جن پر وہ آتے جاتے رہتے ہیں۔چنانچہ راستے میں پڑاؤ کر کے وہ ان کی آمد و رفت کو نہ روکے اور نہ ہی ان کے لیے تکلیف کا باعث ہو اور اس ممانعت کی ایک اور وجہ یہ بھی ہے کہ زہریلے کیڑے مکوڑے اور درندے رات کو راستوں میں چلتے پھرتے ہیں کیوں کہ ان پر چلنے میں سہولت ہوتی ہے اور وہ وہاں گری پڑی کھانے وغیرہ کی اشیاء کو اٹھاتے ہیں۔

موضوعات : سفر کے آداب اور احکام

بسم الله الرحمن الرحيم بدھ 16 جمادی الاول
الأربعاء 16 جمادى الأولى
أحدب متناقص گھٹتا ہوا گول چاند دن 16.6 / 29.5
روشنی 96%
نیا چاند 13 دنوں میں
لا إله إلا الله اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں

إِنَّ ٱللَّهَ وَمَلَٰٓئِكَتَهُۥ يُصَلُّونَ عَلَى ٱلنَّبِىِّ ۚ يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ صَلُّوا۟ عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا۟ تَسْلِيمًا

خدا اور اس کے فرشتے پیغمبر پر درود بھیجتے ہیں۔ مومنو تم بھی ان پر دُرود اور سلام بھیجا کرو

Al-Ahzab 33:56

نبی پر درود