اسلام > Ur > حدیث > فقہ و اصول فقہ > توبہ توبہ یہ تو عین سود ہے، یہ تو بعینہ سود ہے۔ ایسا نہ کیا کرو البتہ (اچھی کھجور) خریدنے …
صحیحفہرست مضامین :
27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا
📖 1 منٹ مطالعہعن أبي سعيد الخدري- رضي الله عنه-: جاء بلال إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم بتمر بَرْنِيٍّ، فقال له النبي صلى الله عليه وسلم : «من أين لك هذا؟» قال بلال: كان عندنا تمر رديء، فبعتُ منه صاعين بصاع ليطعم النبي صلى الله عليه وسلم . فقال النبي صلى الله عليه وسلم عند ذلك: «أَوَّهْ، أَوَّهْ، عَيْنُ الربا، عين الربا، لا تفعل، ولكن إذا أردت أن تشتري فَبِعِ التمرَ ببيع آخر، ثم اشتر به».
بلال رضی اللہ عنہ آپ علیہ الصلاۃ والسلام کے ہاں برنی اچھی کھجوریں لے کر آئے، آپ ﷺ نے اس کی عمدگی پر حیرانگی فرمائی اور کہا کہاں سے لائے ہو؟ بلال رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہمارے پاس ردی کھجوریں تھی، میں نے دو صاع ردی کھجوروں کے بدلے ایک صاع اچھی کھجوریں لے لیں، تاکہ آپ ﷺ اس کو تناول فرمالیں۔ یہ آپ ﷺ پر ناگوار گزرا اور’’توبہ توبہ‘‘ فرمایا، اس لیے کہ یہ گناہ آپ ﷺ کے ہاں عظیم گناہوں میں سے ہے۔
آپ ﷺ نے فرمایا کہ تمہارا یہ کام بعینہٖ سود ہے جو کہ حرام ہے، ایسا نہ کرو۔ ہاں جب تم ردی کھجوروں کو تبدیل کرنا چاہو، تو ردی کھجوروں کو درھم کے بدلے بیچ دو، پھر درھم کے عوض اچھی کھجوریں خریدو۔ یہ جائز طریقہ ہے، حرام سے بچنے کے لیے اس طرح تم کر سکتے ہو۔
موضوعات : سود