اسلام > Ur > حدیث > فقہ و اصول فقہ > کیا لکڑ بگھا شکار ہے؟ انھوں نے جواب دیا: ہاں۔
صحیح27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا
📖 1 منٹ مطالعہعن ابن أبي عَمَّار قال: قلت لجابر: الضَّبْع صَيْدٌ هي؟ قال: «نعم»، قال: قلتُ: آكُلُها؟ قال: «نعم»، قال: قلتُ له: أَقَالَهُ رسول الله صلى الله عليه وسلم ؟ قال: «نعم».
ابن ابو عمار نامی تابعی نے جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے لکڑ بگھا کے بارے میں پوچھا کہ کیا اس کا شکار کرنا اور اسے کھانا جائز ہے؟ تو انھوں نے جواب دیا کہ ہاں جائز ہے۔ ابن ابو عمار نے جابر رضی اللہ عنہ سے پھر پوچھا کہ کیا یہ فتوی انھوں نے اپنی رائے سے دیا ہے یا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے؟ تو بتایا کہ انھوں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے۔
موضوعات : شکار