اسلام > Ur > حدیث > فضائل و آداب > تم ایسے کام کرتے ہو جو تمہاری نظر میں بال سے زیادہ باریک یعنی حقیر ہیں جب کہ ہم لوگ رسول ا…
صحیح27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا
📖 1 منٹ مطالعہعن أنس بن مالك رضي الله عنه قال: «إنكم لتعملون أعمالا هي أَدَقُّ في أعينكم من الشَّعْرِ، كنا نَعُدُّهَا على عهد رسول الله - صلى الله عليه وسلم - من المُوبِقَاتِ».
جلیل القدر صحابی انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے ایسے لوگوں کو مخاطب کر کے فرمایا جو اعمال میں سستی برتتے ہیں کہ تم بعض گناہوں کو چھوٹا سمجھتے ہو کیونکہ ان کے ذریعے جس ذات کی معصیت کی جاتی ہے اس کی عظمت کی طرف تمہاری نظر نہیں جاتی چنانچہ تمہارے نزدیک یہ بہت چھوٹے ہوتے ہیں جب کہ صحابہ رضی اللہ عنہم انہیں ہلاک کر دینے والی اشیاء میں سے شمار کرتے تھے کیونکہ جس ذات کی معصیت ہوتی ہے اس کی عظمت سے وہ آگاہ تھے، اور ان میں بہت زیادہ خوف پایا جاتا تھا اور وہ اپنے آپ پر نظر رکھتے اور اپنی ذات کا محاسبہ کرتے رہتے تھے۔
موضوعات : صحابہ رضی اللہ عنہم کے فضائل · تزکیہ نفس