زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کی وفات اور ان کے قرض کے ادائیگی کا واقعہ۔

اسلام > Ur > حدیث > فضائل و آداب > زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کی وفات اور ان کے قرض کے ادائیگی کا واقعہ۔

حدیث کے راوی: اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔

صحیح

27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا

📖 2 منٹ مطالعہ

حدیث کا متن: زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کی وفات اور ان کے قرض کے ادائ…

عن أبي خبيب -بضم الخاء المعجمة- عبد الله بن الزبير رضي الله عنهما ، قال: لما وقف الزبير يوم الجمل دعاني فقمت إلى جنبه، فقال: يا بني، إِنَّهُ لاَ يُقْتَلُ اليوم إلا ظالم أو مظلوم، وإني لا أُرَانِى إلا سأقتل اليوم مظلوما، وإن من أكبر همي لديني، أفترى دَيْنَنَا يُبقي من مَالِنا شيئا؟ ثم قال: يا بني، بِعْ مَا لَنا واقض ديني، وأوصى بالثلث وثلثه لبنيه، يعني لبني عبد الله بن الزبير ثلث الثلث. قال: فإن فَضَلَ من مَالِنَا بعد قضاء الدين شيء فثلثه لبنيك. قال هشام: وكان بعض ولد عبد الله قد وَازَى بعض بني الزبير خُبَيْبٌ وعَبَّادٌ، وله يومئذ تسعة بنين وتسع بنات. قال عبد الله: فجعل يوصيني بدينه ويقول: يا بني، إن عجزت عن شيء منه فاستعن عليه بمولاي. قال: فوالله ما دريت ما أراد حتى قلت: يا أبت من مولاك؟ قال: الله. قال: فوالله ما وقعت في كربة من دينه إلا قلت: يا مولى الزبير اقض عنه دينه فيقضيه. قال: فقتل الزبير ولم يَدَع دينارا ولا درهما إلا أَرَضِينَ ، منها الغابة وإحدى عشرة دارا بالمدينة، ودارين بالبصرة، ودارا بالكوفة، ودارا بمصر. قال: وإنما كان دينه الذي كان عليه أن الرجل كان يأتيه بالمال، فيستودعه إياه، فيقول الزبير: لا، ولكن هو سلف إني أخشى عليه الضَّيْعَةَ ،وما ولي إمارة قط ولا جباية ولا خراجا ولا شيئا إلا أن يكون في غزو مع رسول الله صلى الله عليه وسلم أو مع أبي بكر وعمر وعثمان رضي الله عنهم قال عبد الله: فحسبت ما كان عليه من الدين فوجدته ألفي ألف ومئتي ألف! فلقي حكيم بن حزام عبد الله بن الزبير، فقال: يا ابن أخي، كم على أخي من الدين؟ فكتمته وقلت: مائة ألف. فقال حكيم: والله ما أرى أموالكم تسع هذه. فقال عبد الله: أرأيتك إن كانت ألفي ألف ومئتي ألف؟ قال: ما أراكم تطيقون هذا، فإن عجزتم عن شيء منه فاستعينوا بي، قال: وكان الزبير قد اشترى الغابة بسبعين ومئة ألف، فباعها عبد الله بألف ألف وستمئة ألف، ثم قام فقال: من كان له على الزبير شيء فليوافنا بالغابة، فأتاه عبد الله بن جعفر، وكان له على الزبير أربعمئة ألف، فقال لعبد الله: إن شئتم تركتها لكم؟ قال عبد الله: لا، قال: فإن شئتم جعلتموها فيما تؤخرون إن إخرتم، فقال عبد الله: لا، قال: فاقطعوا لي قطعة، قال عبد الله: لك من هاهنا إلى هاهنا. فباع عبد الله منها فقضى عنه دينه وأوفاه، وبقي منها أربعة أسهم ونصف، فقدم على معاوية وعنده عمرو بن عثمان، والمنذر بن الزبير، وابن زَمْعَةَ ، فقال له معاوية: كم قُوِّمَتِ الغابة؟ قال: كل سهم بمئة ألف، قال: كم بقي منها؟ قال: أربعة أسهم ونصف، فقال المنذر بن الزبير: قد أخذت منها سهما بمئة ألف، قال عمرو بن عثمان: قد أخذت منها سهما بمئة ألف. وقال ابن زمعة: قد أخذت سهما بمئة ألف، فقال معاوية: كم بقي منها؟ قال: سهم ونصف سهم، قال: قد أخذته بخمسين ومئة ألف. قال: وباع عبد الله بن جعفر نصيبه من معاوية بستمئة ألف، فلما فرغ ابن الزبير من قضاء دينه، قال بنو الزبير: اقسم بيننا ميراثنا، قال: والله لا أقسم بينكم حتى أنادي بالموسم أربع سنين: ألا من كان له على الزبير دين فليأتنا فلنقضه. فجعل كل سنة ينادي في الموسم، فلما مضى أربع سنين قسم بينهم ودفع الثلث. وكان للزبير أربع نسوة، فأصاب كل امرأة ألف ألف ومئتا ألف، فجميع ماله خمسون ألف ألف ومئتا ألف.

حدیث کی وضاحت: زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کی وفات اور ان کے قرض کے ادائ…

جنگ جمل کے موقع پر جو کہ قاتلین عثمان رضی اللہ عنہ کے سپرد کرنے کے معاملے پر ہوئی تھی، زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے کہا: "میں سمجھتا ہوں کہ میں مظلوم شہید کر دیا جاؤں گا۔ مجھے جس چیز کی پرواہ ہے وہ میرے قرض ہیں جو میرے اوپر چڑھے ہوئےہیں، لھٰذا تم انھیں میری طرف سے ادا کر دینا۔" زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کے قرض اتنے زیادہ تھے کہ وہ ان کے سارے مال کو محیط تھے۔ لیکن پھر بھی انہوں نے اپنے بیٹے کے بچوں (پوتوں) کے لیے وصیت کی۔ اس لیے کہ وہ جانتے تھے کہ وراثت میں ان کا کوئی حصہ نہیں ہے کیونکہ ان کا بیٹا زندہ ہے۔ اس لیے انہوں نے تہائی مال کی وصیت کا ایک تہائی حصہ ان کے لئے مختص کر دیا جو سارے مال کا نواں حصہ بنتا ہے۔ لوگ اپنا مال ان کے پاس بطور امانت رکھنے کے لیے آتے، تو وہ اس اندیشے کے تحت بطور امانت اسے لینے سے انکار کر دیتے کہ کہیں وہ ضائع نہ ہو جائے اور فرماتے: "یہ امانت نہیں بلکہ مجھ پر قرض ہے۔" زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ ایک زاہد و امانت دار شخص تھے۔ انہوں نے کبھی بھی کسی حکومتی عہدہ یا کسی بھی شے کی ذمے داری نہیں اٹھائی تھی۔ جب ان کی وفات ہو گئی اور ان کے بیٹے نے ان کی طرف سے ان کا قرض ادا کر دیا اور ان کا کچھ مال بچ بھی گیا تو ورثاء نے ان سے مطالبہ کیا کہ وہ باقی ماندہ کو ان کے مابین تقسیم کر دیں۔ لیکن عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے یہ کہتے ہوئے اسے تقسیم کرنے سے انکار کر دیا کہ وہ ایام حج میں اعلان کرانے کے بعد ہی اسے تقسیم کریں گے۔ اگر یہ بالکل واضح ہو گیا کہ کوئی ایسا شخص باقی نہیں رہا جس کا ان کے والد پر قرض ہو تو وہ اسے ان میں تقسیم کر دیں گے۔ چنانچہ انہوں نے ایسے ہی کیا۔ جب سارا قرض ادا کر چکے تو آٹھواں حصہ زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کی بیویوں کو دے دیا جو ترکے میں ان کا حصہ بنتا تھا۔ زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کی اس وقت چار بیویاں تھیں۔

موضوعات : صحابہ رضی اللہ عنہم کے فضائل · مشہور شخصیات کی سوانح حیات اور حالات زندگی

بسم الله الرحمن الرحيم منگل 15 جمادی الاول
الثلاثاء 15 جمادى الأولى
بدر پورا چاند دن 16.6 / 29.5
روشنی 96%
نیا چاند 13 دنوں میں
الحمد لله اللہ کی حمد

إِنَّ ٱللَّهَ وَمَلَٰٓئِكَتَهُۥ يُصَلُّونَ عَلَى ٱلنَّبِىِّ ۚ يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ صَلُّوا۟ عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا۟ تَسْلِيمًا

خدا اور اس کے فرشتے پیغمبر پر درود بھیجتے ہیں۔ مومنو تم بھی ان پر دُرود اور سلام بھیجا کرو

Al-Ahzab 33:56

نبی پر درود