اسلام > Ur > حدیث > عقیدہ > تم اپنی (پوری) شام اور (پوری)رات چلتے رہو گے تو ان شاء اللہ کل تک پانی پر پہنچ جاؤ گے۔
صحیح27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا
📖 3 منٹ مطالعہعَنْ أَبِي قَتَادَةَ، قَالَ: خطبَنا رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال: «إنكم تَسِيرُونَ عَشِيَّتَكُمْ، وتأتون الماء إن شاء الله غدا»، فانطلَق الناس لا يَلْوِي أحد على أحد، قال أبو قتادة: فبينما رسول الله صلى الله عليه وسلم يسير حتى ابهَارَّ الليلُ، وأنا إلى جنْبه، قال: فَنَعَس رسول الله صلى الله عليه وسلم، فمَاَل عن راحلته، فأتيتُه فدَعَمْته من غير أن أُوقِظه حتى اعتدل على راحلته، قال: ثم سار حتى تَهَوَّرَ الليل، مالَ عن راحلته، قال: فدعمتُه من غير أن أُوقِظه حتى اعتدل على راحلته، قال: ثم سار حتى إذا كان من آخر السَّحَر، مال مَيْلة هي أشد من الميْلتيْن الأولييْن، حتى كاد يَنْجَفِل، فأتيتُه فدعمْته، فرفع رأسه، فقال: «مَن هذا؟» قلت: أبو قتادة، قال: «متى كان هذا مسيرَك مني؟» قلت: ما زال هذا مَسِيري منذ الليلة، قال: «حفظك الله بما حفظت به نبيه»، ثم قال: «هل ترانا نَخْفى على الناس؟»، ثم قال: «هل تَرى من أحد؟» قلت: هذا راكب، ثم قلت: هذا راكب آخر، حتى اجتمعنا فكنا سبعةَ ركْب، قال: فمالَ رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الطريق، فوضع رأسه، ثم قال: «احفظوا علينا صلاتنا»، فكان أوَّل مَن استيقظ رسول الله صلى الله عليه وسلم والشمسُ في ظهْره، قال: فقُمْنا فَزِعِين، ثم قال: «اركبوا»، فركبْنا فسِرْنا حتى إذا ارتفعت الشمس نَزَل، ثم دعا بِمِيضَأَة كانت معي فيها شيء من ماء، قال: فتوضأ منها وُضوءا دون وُضوء، قال: وبقي فيها شيء من ماء، ثم قال لأبي قتادة: «احفظْ علينا مِيضَأتك، فسيكون لها نَبَأ»، ثم أذَّن بلال بالصلاة، فصلَّى رسول الله صلى الله عليه وسلم ركعتين، ثم صلَّى الغَداة، فصنع كما كان يصنع كلَّ يوم، قال: وركِبَ رسول الله صلى الله عليه وسلم وركبْنا معه، قال: فجعل بعضنا يَهْمِس إلى بعض ما كفَّارة ما صنعنا بِتَفْريطِنا في صلاتنا؟ ثم قال: «أما لَكُم فيَّ أُسْوة»، ثم قال: «أمَا إنه ليس في النوم تَفْريط، إنما التفريط على من لم يصلِّ الصلاة حتى يجيء وقت الصلاة الأخرى، فمن فعل ذلك فليُصَلِّها حِينَ ينتبه لها، فإذا كان الغد فليصلها عند وقتها»، ثم قال: «ما تَرَوْن الناس صنعوا؟» قال: ثم قال: «أصبح الناس فَقَدُوا نبيهم»، فقال أبو بكر وعمر: رسول الله صلى الله عليه وسلم بَعْدَكم، لم يكن لِيُخلِّفكم، وقال الناس: إن رسول الله صلى الله عليه وسلم بيْن أيديكم، فإن يطيعوا أبا بكر، وعمر يَرْشُدُوا، قال: فانْتهيْنا إلى الناس حين امتدَّ النهار، وحَمِي كل شيء، وهم يقولون: يا رسول الله هَلَكْنا، عطِشْنا، فقال: «لا هُلْكَ عليكم»، ثم قال: «أَطْلِقوا لي غُمَرِي» قال: ودعا بالمِيضَأة، فجعل رسول الله صلى الله عليه وسلم يصُبُّ، وأبو قتادة يَسْقِيهم، فلم يعد أن رأى الناس ماء في الميضأة تكابوا عليها، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «أحسنوا المَلَأ كلُّكُم سيَرْوَى» قال: ففعلوا، فجعل رسول الله صلى الله عليه وسلم يصبُّ وأسقِيهم حتى ما بقي غيري، وغير رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: ثم صب رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال لي: «اشرب»، فقلت: لا أشرب حتى تشرب يا رسول الله قال: «إن ساقيَ القوم آخرهُم شربا»، قال: فشربتُ، وشرب رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: فأتى الناس الماء جامِّينَ رِوَاءً، قال: فقال عبد الله بن رباح: إني لأحدِّث هذا الحديث في مسجد الجامع، إذ قال عمران بن حصين انظر أيها الفتى كيف تحدِّث، فإني أحد الركب تلك الليلة، قال: قلت: فأنت أعلم بالحديث، فقال: ممَّن أنت؟ قلت: من الأنصار، قال: حدِّث، فأنتم أعلم بحديثكم، قال: فحدَّثت القوم، فقال عمران: لقد شهدت تلك الليلة، وما شَعَرتُ أن أحدا حفظه كما حفظته.
اس حدیث شریف میں یہ وضاحت کی گئی ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک سفر میں تھے کہ ان کے ساتھ موجود سارا پانی ختم ہوگیا تو نبی ﷺ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کو یہ بشارت سنائی کہ انھیں آگےپانی مل جائے گا،جس کو سن کر قوم میں تیزی سے آگے بڑھنے کا جذبہ پیدا ہو اور وہ انتظار کیے بغیر نبی ﷺ سے آگے بڑھ گیے اورابوقتادہ کے بشمول کچھ صحابہ کرام (نبی ﷺ کے ہمراہ رہ گیے)، رات کا وقت تھا اور رسول اللہ ﷺ اونگھنے لگتے تو ابوقتادہ رضی اللہ عنہ آپ ﷺ کو ایسے سہارا دیتے کہ آپ سواری سے گر نہ پڑیں یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ (آخری بار) ان کے سہارا دینے کی وجہ سے بیدار ہوگیے اور ان کے حق میں حفظ و امان کی ویسے ہی دعاء فرمائی جیسے ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے آپ کی حفاظت کرتے ہوئے کیا۔ پھر آپ ﷺ نے انھیں بتایا کہ آپ علیہ الصلاۃ والسلام کے (کہ آیا آپ ﷺ، آگے پہنچ جانے والوں سے آگے یا پیچھے ہیں) مقام کے تعلق سے لوگوں کی الگ الگ رائے ہوگی اور یقینا ابوبکر صدیق اور عمر رضی اللہ عنھما انہیں یہ بتائیں گے کہ آپ ﷺ ان کے پیچھے ہیں اور یقینا اگر یہ لوگ ان دونوں کی بات مان لیں تو صحیح راہ پالیں گے، اور یہ نبی ﷺ کی نبوی نشانیوں میں سے ہے، پھر وہ سب رات کو سوگیے اور سورج کی تپش ہی نے انہیں نیند سے بیدار کیا تو رسول اللہ ﷺ نے اس مسئلہ کی وضاحت فرمائی کہ جوشخص نماز سے سو جائے اور جان بوجھ کر اس نے نماز نہ چھوڑی ہو تو یہ تقصیر و کوتاہی نہ ہوگی، لیکن کوتاہ تو وہ شخص ہوگا جو اس نماز کو ادا کرنے کے بجائے، اسے چھوڑے رکھے یہاں تک کہ اس کا وقت ہی نکل جائے، جب نبی ﷺ اور آپ کے ہمراہی صحابہ کرام آگے بڑھ جانے والی قوم سے جاملے اور وہ اس حال میں تھے کہ قریب تھا کہ وہ پیاس کی وجہ سے ہلاک ہوجاتے تو نبی ﷺ نے انہیں یہ بشارت سنائی کہ وہ بالکل ہلاک نہ ہوں گے بلکہ وہ سارے کے سارے لوگ ہی سیراب ہوں گے اور آپ ﷺ نے ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کاوہ برتن منگایا جس کو وہ آپ ﷺ کے وضو کے لیے استعمال کیا کرتے تھے اور وہ چھوٹا سا برتن تھا۔ آپ ﷺ نے اس میں وضو فرمایا اور لوگوں کو اس میں سے پینے کے لیے بلایا۔ تمام لوگ پی چکے، یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ اور ابوقتادہ رضی اللہ عنہ باقی رہ گیے۔ نبی ﷺ کی اس خبر و آگہی کے بعد کہ قوم کو پلانے والے پر ضروری ہے کہ وہ سب سے آخر میں پیئے،ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے پی لیا۔ اور یہ نبی ﷺ کے معجزات میں سے ہے۔
موضوعات : صحابہ رضی اللہ عہنہم کی فضیلت