”جبریل مجھے پڑوسی کے (حق کے) بارے میں اس قدر وصیت کرتے رہے کہ مجھے خیال ہونے لگا کہ وہ پڑو…
اسلام > Ur > حدیث > فقہ و اصول فقہ > ”جبریل مجھے پڑوسی کے (حق کے) بارے میں اس قدر وصیت کرتے رہے کہ مجھے خیال ہونے لگا کہ وہ پڑو…
حدیث کے راوی: متفق عليه
صحيح
27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا
📖 1 منٹ مطالعہ
حدیث کا متن: ”جبریل مجھے پڑوسی کے (حق کے) بارے میں اس قدر وصیت کرتے…
عن ابن عمر رضي الله عنهما قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «مَا زَالَ يُوصِينِي جِبْرِيلُ بِالْجَارِ، حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ سَيُوَرِّثُهُ».
حدیث کی وضاحت: ”جبریل مجھے پڑوسی کے (حق کے) بارے میں اس قدر وصیت کرتے…
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ جبریل آپ کو پڑوسی، چاہے وہ مسلمان ہو یا غیر مسلم اور رشتے دار ہو یا غیر رشتے دار، کا خیال رکھتے ہوئے اس کے حقوق ادا کرنے، اسے تکلیف نہ پہنچانے، اس کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنے اور اس کی جانب سے دی جانے والی اذیت پر صبر کرنے کا حکم اس طرح بار بار دیتے رہے کہ آپ کو اس تاکید اور تکرار سے یہ لگنے لگا کہ آپ پر ایسی وحی اترنے والی ہے، جس میں میت کے چھوڑے ہوئے مال میں پڑوسی کو حصے دار بنانے کی بات ہو۔
اسباق: ”جبریل مجھے پڑوسی کے (حق کے) بارے میں اس قدر وصیت کرتے…
- پڑوسی کا غیر معمولی حق اور اس کا دھیان رکھنے کی ضرورت۔
- پڑوسی کے حق کی تاکید کے ساتھ وصیت کرنے کا تقاضہ یہ ہے کہ اس کی عزت کی جائے، اس سے محبت رکھی جائے، اس کے ساتھ اچھا سلوک کیا جائے، اسے تکلیف سے بچایا جائے، بیمار ہونے پر اس کی تیمار داری کی جائے، خوشی کے موقعے پر اسے مبارک باد دی جائے اور مصیبت کے وقت اس کی غم گساری کی جائے۔
- پڑوسی کا دروازہ جتنا قریب ہوگا، اس کا حق اتنا بڑھ جائے گا۔
- شریعت اسلامیہ ایک مکمل شریعت ہے، جس میں پڑوسیوں کے ساتھ اچھا سلوک اور ان کو تکلیف سے بچانے جیسی سماج کو خوش گوار بنانے والی تعلیمات دی گئی ہيں۔
موضوعات :
صلح اور ہمسائیگی کے احکام
بسم الله الرحمن الرحيم
منگل 15 جمادی الاول
الثلاثاء 15 جمادى الأولى
لا إله إلا الله
اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں