اسلام > Ur > حدیث > فضائل و آداب > اللہ تعالی علم کو بندوں سے چھین کر نہیں اٹھائے گا بلکہ وہ علماء کو موت دے کر علم کو اٹھائے…
صحیح27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا
📖 2 منٹ مطالعہعن عبد الله بن عمرو بن العاص رضي الله عنهما ، قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «إنَّ اللهَ لاَ يَقْبِضُ العِلْمَ انْتِزَاعاً يَنْتَزعهُ مِنَ النَّاسِ، وَلكِنْ يَقْبِضُ العِلْمَ بِقَبْضِ العُلَمَاءِ، حَتَّى إِذَا لَمْ يُبْقِ عَالِماً، اتَّخَذَ النَّاسُ رُؤُوساً جُهَّالاً، فَسُئِلُوا فَأفْتوا بِغَيْرِ عِلْمٍ، فَضَلُّوا وَأضَلُّوا».
عبداللہ بن عمرو - رضی الله عنہما - سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ "اللہ علم کو چھین کر نہیں اٹھائے گا۔" اس سے کتاب و سنت اور اس سے متعلقہ علوم مراد ہیں۔
”انتزاعاً ينتزعه من الناس“ یعنی لوگوں سے علم کو یوں نہیں ختم کرے گا کہ ان کے درمیان سے علم کو آسمان پر اٹھا لے بلکہ علم کو علماء کو موت دے کر اور ان کی روحوں کو قبض کرکے اٹھائے گا۔یہاں تک کہ جب اللہ کسی بھی عالم کو نہیں چھوڑے گا یعنی ہر عالم کی روح قبض کر لے گا تو لوگ ایسے افراد کو اپنا خلیفہ، قاضی، مفتی، امام اور شیخ بنا لیں گے جو جاہل ہوں گے۔ ”جُھّال“ دراصل جاہل جمع ہے۔ ایسے لوگوں سے جب کوئی مسئلہ پوچھا جائے گا تو وہ بغیر کسی علم کے فتوی دیں گے اور بلا علم فیصلہ کر دیا کریں گے اور یوں خود بھی گمراہ ہوں گے اور دوسروں کو بھی گمراہ کریں گے۔ اس طرح سے جہالت عام ہو جائے گی۔ اس حدیث میں اشارہ ہے کہ علم عنقریب اٹھا لیا جائے گا اور زمین میں ایک عالم بھی ایسا نہیں رہے گا جو لوگوں کو اللہ کے دین کی طرف رہنمائی کرے۔ اس طرح سے امت پستی کا شکار ہوجائے گی اور گمراہی میں پڑ جائے گی۔
موضوعات : عالم اور متعلم کے آداب