اسلام > Ur > حدیث > عقیدہ > لوگ مدینے کو پہلے سے بہتر حالت میں چھوڑ جائیں گے، البتہ وہ ایسے اجڑا ہوا ہوگا کہ وہاں وحشی…
صحیح27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا
📖 1 منٹ مطالعہعن أبي هريرة رضي الله عنه قال: سمعتُ رسولَ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - يقولُ: (يتركون المدينة على خير ما كانت، لا يَغْشَاهَا إلا العَوَافِي يريد -عوافي السِّباع والطير-، وآخِر من يُحْشَرُ راعيان من مُزَيْنَةَ، يُرِيدَانِ المدينةَ يَنْعِقَانِ بغنمهما، فيَجِدَانِها وُحُوشًا، حتى إذا بلغا ثَنِيَّةَ الوَدَاعِ خَرَّا على وُجوههما).
اس حدیث میں نبی کریم ﷺ نے بتایا ہے کہ ایک وقت ایسا آئے گا کہ مدینہ طیبہ -اللہ تعالیٰ اس کے عز وشرف کو دو چند کر دے- کے باشندے اسے چھوڑ کر نکل جائیں گے اور درندوں اور پرندوں کے سوا کوئی باقی نہیں رہے گا، نیز یہ کہ یہ آخری زمانے میں ہوگا۔ آخر میں مزینہ کے دو چرواہے اپنی بکریوں کو ہانکتے ہوئے مدینہ آئیں گے، لیکن وہ اسے سنسان اور وحشت ناک پائیں گے۔ وہ سب سے آخر میں حشر کا سامنا کرنے والے ہوں گے۔ جب وہ ثنیۃ الوداع تک پہنچیں گے، تو منہ کے بل گر کر مر جائیںگے۔
موضوعات : علاماتِ قیامت