اسلام > Ur > حدیث > عقیدہ > نبی ﷺ نے پانی کا ایک برتن طلب فرمایا تو آپ ﷺ کے لیے ایک چوڑے منہ کا پیالہ لایا گیا جس میں …
صحیح27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا
📖 1 منٹ مطالعہعن أنس بن مالك رضي الله عنه قال: حَضَرَتِ الصلاةُ فقامَ مَنْ كان قريبَ الدارِ إلى أَهْلِهِ، وبَقِيَ قَوْمٌ، فأُتِيَ رسولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم بِمِخْضَبٍ مِنْ حِجَارَةٍ، فَصَغُرَ المِخْضَبُ أَنْ يَبْسُطَ فيهِ كَفَّهُ، فتَوَضَّأَ القومُ كلهم. قالوا: كم كنتم؟ قال: ثمانينَ وزيادةً.
وفي رواية: أَنَّ النبيَّ صلى الله عليه وسلم دعا بإناءٍ من مَاءٍ، فأُتِيَ بقَدَحٍ رَحْرَاحٍ فيهِ شَيْءٌ من ماءٍ، فوضعَ أَصَابِعَهُ فيهِ، قال أنس: فَجَعَلْتُ أَنْظُرُ إلى الماءِ يَنْبُعُ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِهِ، فَحَزَرْتُ مَنْ تَوَضَّأَ ما بَيْنَ السبعينَ إلى الثمانينَ.
انس رضی اللہ عنہ بیان کر رہے ہیں کہ: نماز کا وقت ہوگیا یعنی مدینہ میں صحابہ نبی ﷺ کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ نمازِ عصر کا وقت ہو گیا۔ جس کا گھر مسجد سے قریب تھا وہ چلا گیا یعنی جن کے گھر وہاں سے قریب ہی تھے وہ وضو کرنے کے لیے گھر چلے گئے۔ ”کچھ لوگ باقی رہے“ یعنی وہ لوگ نبی ﷺ کے پاس رہ گیے جن کے گھر دور تھے۔
نبی ﷺ کے پاس پتھر کا ایک چھوٹا سا برتن لایا گیا جس میں تھوڑا سا پانی تھا۔ بعض روایات میں اس برتن کو '”رَحرَاح“' کی صفت سے موصوف کیا گیا ہے۔ (یعنی چوڑے منہ والا ایسا برتن جس کا پیندا زیادہ گہرا نہ ہو)۔ اس چھوٹے سے برتن میں جب آپ ﷺ نے اپنی ہتھیلی کو پھیلانا چاہا تو یہ تنگ پڑ رہا تھا۔
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اس سے سب لوگوں نے وضو کر لیا۔ ہم نے پوچھا کہ آپ کتنے افراد تھے؟ انہوں نے جواب دیا کہ اسّی سے کچھ اوپر۔
موضوعات : ہمارے نبی محمدﷺ