حدیثِ شفاعت

اسلام > Ur > حدیث > عقیدہ > حدیثِ شفاعت

حدیث کے راوی: اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔

صحیح

27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا

📖 3 منٹ مطالعہ

حدیث کا متن: حدیثِ شفاعت

عن حذيفة بن اليمان وأبي هريرة رضي الله عنهما مرفوعاً: «يجمع الله -تبارك وتعالى- الناس فيقوم المؤمنون حتى تُزْلَفَ لهم الجنة، فيأتون آدم صلوات الله عليه، فيقولون: يا أبانا استفتح لنا الجنة، فيقول: وهل أخرجكم من الجنة إلا خطيئة أبيكم! لست بصاحب ذلك، اذهبوا إلى ابني إبراهيم خليل الله، قال: فيأتون إبراهيم فيقول إبراهيم: لستُ بصاحب ذلك إنما كنت خليلا من وراءِ وراء، اعمدوا إلى موسى الذي كلمه الله تكليما، فيأتون موسى، فيقول: لستُ بصاحب ذلك، اذهبوا إلى عيسى كلمة الله وروحه، فيقول عيسى: لست بصاحب ذلك، فيأتون محمدا صلى الله عليه وسلم فيقوم فيؤذن له، وتُرسَلُ الأمانة والرحم فيقومان جَنْبَتَي الصِّرَاطَ يمينا وشمالا فيَمُرُّ أوَّلُكُم كالبَرْقِ» قلتُ: بأبي وأمي، أي شيء كَمَرِّ البرْقِ؟ قال: «ألم تروا كيف يمر ويرجع في طَرْفِة عَيْنٍ، ثم كَمَرِّ الرِّيح، ثم كَمَرِّ الطَّيْرِ، وشَدِّ الرِّجال تجري بهم أعمالهم، ونبيكم قائم على الصراط، يقول: رب سَلِّمْ سَلِّمْ، حتى تعجز أعمال العباد، حتى يجيء الرجل لا يستطيع السير إلا زَحْفَا، وفي حافتي الصراط كَلالِيبُ مُعَلَّقَةٌ مأمورة بأخذ من أُمِرَتْ به، فَمَخْدُوشٌ نَاجٍ، ومُكَرْدَسٌ في النار». والذي نفس أبي هريرة بيده، إن قَعْرَ جهنم لسبعون خريفا.

حدیث کی وضاحت: حدیثِ شفاعت

قیامت کے دن اللہ تعالیٰ لوگوں کو حساب وکتاب اور جزا و سزا کے لیے جمع کرے گا۔ مومن لوگ کھڑے ہوں گے اور جنت کو ان کے قریب کر دیا جائے گا تاہم اسے ان کے لیے کھولا نہیں جائے گا کیونکہ قیامت کے دن میدان حشر میں بہت لمبے وقت کے لیے ٹھہرنا ہو گا۔ چنانچہ وہ آدم علیہ السلام کے پاس جا کر ان سے گزارش کریں گے کہ وہ اللہ کی بارگاہ میں درخواست کریں کہ وہ ان کے لیے جنت کو کھول دے۔ آدم علیہ السلام انہیں یہ کہہ کر واپس کر دیں گے کہ وہ اس کے اہل نہیں ہیں کیونکہ ان کی خطا کی وجہ سے ہی تو ان سب کو جنت سے نکلنا پڑا تھا۔ وہ انہیں ابراہیم علیہ السلام کے پاس بھیج دیں گے کیونکہ وہ اللہ کے خلیل ہیں اور خلت محبت کا سب سے بلند درجہ ہے۔ وہ لوگ ابراہیم علیہ السلام کے پاس جائیں گے لیکن وہ بھی انہیں یہ جواب دیں گے کہ وہ اس مقامِ بلند کے حامل نہیں ہيں۔ وہ ان سے کہیں گے کہ موسی علیہ السلام کے پاس چلے جاؤ کیونکہ اللہ تعالی نے ان سے بغیر کسی واسطے کے براہ راست کلام کیا تھا۔ چنانچہ وہ موسی علیہ السلام کے پاس جائیں گے اور وہ بھی ان سے کہیں گے کہ میں اس کا اہل نہیں ہوں۔ تم عیسی علیہ السلام کے پاس جاؤ جنہیں اللہ تعالی نے اپنے کلمے سے پیدا فرمایا۔ چنانچہ وہ عیسی علیہ السلام کے پاس جائیں گے اور وہ بھی ان سے یہی کہیں گے کہ میں اس کا اہل نہیں ہوں۔ بالآخر وہ ہمارے نبی محمد ﷺ کے پاس آئیں گے اور آپ ﷺ سے گزارش کریں گے کہ آپ ﷺ اللہ سے درخواست کریں کہ اللہ ان کا فیصلہ فرما دے اور ان کے لیے جنت کو کھول دے۔ آپ ﷺ ان کی درخواست قبول کرتے ہوئے (اللہ سے شفاعت کی) اجازت کے طلب گار ہوں گے۔ آپ ﷺ کو اجازت دے دی جائے گی۔ پھر امانت اور رحم آکر پل صراط کے دونوں اطراف میں کھڑے ہو جائیں گے۔ پل صراط جہنم پر تانا ہوا پل ہو گا جس پر سے لوگ اپنے اعمال کے حساب سے گزریں گے۔ جو شخص دنیا میں نیک اعمال میں جلدی کرتا ہوگا وہ اس پل پر سے تیزی سے گزر جائے گا اور جو اس کے برعکس ہوں گے ان کا معاملہ بالکل الٹ ہوگا۔ ان لوگوں میں سے کچھ تو نجات پا کر نکل جائیں گے اور کچھ ایسے ہوں گے جو جہنم میں گر جائیں گے اور جہنم کے تہ تک ستر سال کے بعد پہنچیں گے کیونکہ جہنم کی تہ بہت دور ہے۔ اللہ کی پناہ!

موضوعات : اخروی زندگی

بسم الله الرحمن الرحيم منگل 15 جمادی الاول
الثلاثاء 15 جمادى الأولى
بدر پورا چاند دن 16.5 / 29.5
روشنی 97%
نیا چاند 13 دنوں میں
سبحان الله اللہ کی تسبیح

إِنَّ ٱللَّهَ وَمَلَٰٓئِكَتَهُۥ يُصَلُّونَ عَلَى ٱلنَّبِىِّ ۚ يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ صَلُّوا۟ عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا۟ تَسْلِيمًا

خدا اور اس کے فرشتے پیغمبر پر درود بھیجتے ہیں۔ مومنو تم بھی ان پر دُرود اور سلام بھیجا کرو

Al-Ahzab 33:56

نبی پر درود