اسلام > Ur > حدیث > عقیدہ > عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ہمیں لکھا: ہر جاوگر مرد اور عورت کو قتل کردو۔
یہ حدیث اپنی تمام روایات کے اعتبار سے صحیح ہے۔27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا
📖 1 منٹ مطالعہعن بَجَالَةَ بن عَبَدة قال: كتب عمر بن الخطاب: «أن اقتُلُوا كلّ ساحر وساحرة». قال: فقتلنا ثلاث سواحر.
وعن ابن عمر رضي الله عنه : «أن حفصة سَحَرَتْها جاريتها فاعتَرَفَتْ بسِحْرها، فأمرت عبد الرحمن بن زيد فقتلها».
وعن أبي عثمان النهدي: «أنه كان عند الوليد رجل يلعب فذبح إنسانًا، وأبان رأسه؛ فعَجِبْنا، فأعاد رأسه، فجاء جُنْدُبٌ الْأَزْديّ فقتله».
چونکہ جادو اپنے یقینی مفاسد و برے نتائج یعنی قتل، باطل طریقے سے مال ہتھیانے اور میاں بیوی کے مابین تفریق پیدا کرنے کے اعتبار سے خطرناک ترین معاشرتی بیماریوں میں سے ایک بیماری ہے، اس کا کچھ حصہ تو کفر ہے اس لیے کہ اس میں شیطانوں سے استعانت اور ان کا تقرب حاصل کیا جاتا ہے، اس لیے اللہ تعالی نے جادو گر کو قتل کر دینے کا حکم دے کر اس کی مکمل طور پر بیخ کنی کے لیے ایک شافی علاج فراہم کر دیا تاکہ معاشرہ اپنے فضائل وپاکیزگی اور راست روی کے ساتھ صحیح ڈگر پر چل سکے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اس حکم پر عمل کیا۔