سب سے بڑے گناہ اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرانا، اللہ کی رحمت ونعمت سے مایوس ہوجانا، اس کی پوشیدہ…
اسلام > Ur > حدیث > عقیدہ > سب سے بڑے گناہ اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرانا، اللہ کی رحمت ونعمت سے مایوس ہوجانا، اس کی پوشیدہ…
حدیث کے راوی: اسے امام عبد الرزّاق نے روایت کیا ہے۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔
27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا
📖 1 منٹ مطالعہ
حدیث کا متن: سب سے بڑے گناہ اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرانا، اللہ کی رحمت…
عن عبد الله بن مسعود رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال: "أكبر الكبائر: الإشراك بالله، والأمن من مَكْرِ الله، والقُنُوطُ من رحمة الله، واليَأْسُ من رَوْحِ الله".
حدیث کی وضاحت: سب سے بڑے گناہ اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرانا، اللہ کی رحمت…
اس حدیث میں اللہ کے رسول ﷺ نے ان گناہوں کا ذکر کیا جو کبیرہ گناہ شمار ہوتے ہیں اوروہ یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی ربوبیت یا عبودیت میں اس کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا، اس کو پہلے ذکر کیا اس لئے کہ یہ سب سے بڑا گناہ ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کی رحمت سے ناامید ہونا،اس لئے کہ یہ اللہ کے بارے میں بدگمانی ہے اور اس کی وسیع رحمت سے نا واقفیت ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کے بندے کو نعمتوں کے ذریعہ ڈھیل دینے اور حالت غفلت میں اچانک پکڑلینے سے بے خوف رہنا۔ اس حدیث سے مُراد یہ نہیں کہ کبیرہ گناہ صرف یہی ہیں۔ اس لئے کہ کبیرہ گناہ بہت ہیں۔ تاہم یہاں ان میں سے سب سے بڑے گناہوں کا ذکر کیا ہے۔
اسباق: سب سے بڑے گناہ اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرانا، اللہ کی رحمت…
- گناہوں کا کبائر و صغائر میں منقسم ہونا۔
- شرک سب سے بڑا گناہ ہے۔
- اللہ سبحانہ کے مکر سے مامون ہونا اور اس کی رحمت سے مایوس و ناامید ہونا حرام اور کبیرہ گناہ ہے۔
- اللہ تعالی کو مکرکرنے والوں کے مقابلے میں صفت مکر سے متصف کرنا جائز ہے۔ یہ دراصل صفت کمال ہے۔ مذموم مکر وہ ہے، جو اس شخص سے کیا جائے، جو مکر کا مستحق نہ ہو۔
- بندے پر واجب ہے کہ وہ خوف و رجا کے درمیان رہے۔ جب وہ خوف کرے، تو مایوس نہ ہو اور جب امید رکھے، تو مامون نہ رہے۔
- اللہ تعالیٰ کے لیے صفت رحمت کا اثبات، جو اس کی عظمت کے شایان شان ہو۔
- اللہ عزوجل سے اچھا گمان رکھنا واجب ہے۔
موضوعات :
توحیدِ اُلوہیت
بسم الله الرحمن الرحيم
منگل 15 جمادی الاول
الثلاثاء 15 جمادى الأولى
لا إله إلا الله
اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں