کرسی قدم رکھنے کی جگہ ہے اور عرش کی وسعت کا تو کوئی اندازہ ہی نہیں کر سکتا۔

اسلام > Ur > حدیث > عقیدہ > کرسی قدم رکھنے کی جگہ ہے اور عرش کی وسعت کا تو کوئی اندازہ ہی نہیں کر سکتا۔

حدیث کے راوی: اسے ابنِ خزیمہ نے اپنی کتاب ”التوحید“ میں روایت کیا ہے۔ - اسے عبد الله بن احمد نے اپنی کتاب ”السنة“ میں روایت کیا ہے۔

صحیح

27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا

📖 1 منٹ مطالعہ

حدیث کا متن: کرسی قدم رکھنے کی جگہ ہے اور عرش کی وسعت کا تو کوئی اند…

عن ابن عباس رضي الله عنهما موقوفًا عليه: «الكُرسِيُّ مَوْضِع القَدَمَين، والعَرْش لا يَقْدِرُ أحدٌ قَدْرَه».

حدیث کی وضاحت: کرسی قدم رکھنے کی جگہ ہے اور عرش کی وسعت کا تو کوئی اند…

”الكُرسِيُّ مَوْضِع القَدَمَين“ یعنی وہ کرسی جسے اللہ تعالی نے اپنی طرف منسوب کیا ہے، وہ اللہ تعالی کے دونوں قدم رکھنے کا مقام ہے۔ کرسی کے بارے یہ معنی جسےابن عباس رضی اللہ عنہما نے ذکر کیا ہے، یہی اہل سنت کے مابین معروف ہے اور یہی معنی ان سے محفوظ طریقے سے مروی ہے۔ باقی رہا ان سے مروی یہ معنی کہ کرسی سے مراد علم ہے تو وہ غیر محفوظ ہے۔ اسی طرح حسن رضی اللہ عنہ سے مروی یہ معنی کہ کرسی سے مراد عرش ہے، ضعیف ہے اور صحیح سلسلۂ سند سے ان سے مروی نہیں ہے۔ اس حدیث میں اللہ سبحانہ وتعالی کے لیے دو قدموں کی صفت کا اثبات ہے، یہ صفت اللہ تعالی کے لیے بغیر کیفیت، تمثیل، تاویل اور تعطیل کے ویسے ہی ثابت ہے جیسا کہ اللہ تعالی کی عظمت وکبریائی کے شایان شان ہے۔ ”والعَرْش لا يَقْدِرُ أحدٌ قَدْرَه“ یعنی عرش جس پر اللہ تعالی مستوی ہیں وہ ایک عظیم مخلوق ہے۔ اس کے حجم اور وسعت کو اللہ تعالی کے سوا کوئی نہیں جانتا۔

موضوعات : توحيدِ اسماء وصفات

بسم الله الرحمن الرحيم منگل 15 جمادی الاول
الثلاثاء 15 جمادى الأولى
بدر پورا چاند دن 16.5 / 29.5
روشنی 97%
نیا چاند 13 دنوں میں
اللهم صل على محمد اے اللہ محمد پر درود بھیج

إِنَّ ٱللَّهَ وَمَلَٰٓئِكَتَهُۥ يُصَلُّونَ عَلَى ٱلنَّبِىِّ ۚ يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ صَلُّوا۟ عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا۟ تَسْلِيمًا

خدا اور اس کے فرشتے پیغمبر پر درود بھیجتے ہیں۔ مومنو تم بھی ان پر دُرود اور سلام بھیجا کرو

Al-Ahzab 33:56

نبی پر درود