اسلام > Ur > حدیث > عقیدہ > جب كوئي مسلمان شخص نماز اور ذكر كے لیے مساجد میں پابندی کے ساتھ آتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس س…
حَسَنْ27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا
📖 1 منٹ مطالعہعن أبي هريرة رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «ما توطَّنَ رجلٌ مسلمٌ المساجدَ للصلاة والذِّكر، إلا تَبَشْبَشَ اللهُ له، كما يَتَبَشْبَشُ أهلُ الغائب بغائبهم إذا قَدِمَ عليهم».
مسلمان جو پابندی کے ساتھ مساجد میں نماز اور ذکر کے لیے آتا ہے اور ہمیشہ ایسا کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس سے ایسے مسرور اور خوش ہوتا ہے جیسے کسی غیر موجود شخص کے آنے پر اس کے اہل خانہ خوش ہوتے ہیں۔ يہاں بشاشت کی صفت کی تاویل شفقت اور رحمت وغیرہ جیسے معانی سے کرنا درست نہیں ہے بلکہ اس کا بغیر تحریف و تعطیل اور بنا تکییف و تمثیل کے اللہ عز وجل کے لیے اثبات کرنا واجب ہے تاہم اس بات کا علم ہونا چاہیے کہ شفقت و رحمت صفتِ بشاشت کے لوازمات میں سے ہیں۔
موضوعات : توحيدِ اسماء وصفات