اسلام > Ur > حدیث > عقیدہ > نبی ﷺ نے کسی واقعے کا ذکر کیا اور فرمایا: "یہ علم چلے جانے کے وقت ہو گا
صحيح لغيره27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا
📖 2 منٹ مطالعہعَنْ زِيَادِ بْنِ لَبِيدٍ رضي الله عنه قَالَ: ذَكَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا، فَقَالَ: «ذَاكَ عِنْدَ أَوَانِ ذَهَابِ الْعِلْمِ» قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَكَيْفَ يَذْهَبُ الْعِلْمُ، وَنَحْنُ نَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَنُقْرِئُهُ أَبْنَاءَنَا وَيُقْرِئُهُ أَبْنَاؤُنَا أَبْنَاءَهُمْ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ؟ قَالَ: «ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ زِيَادُ، إِنْ كُنْتُ لَأُرَاكَ مِنْ أَفْقَهِ رَجُلٍ بِالْمَدِينَةِ، أَوَلَيْسَ هَذِهِ الْيَهُودُ وَالنَّصَارَى يَقْرَؤونَ التَّوْرَاةَ وَالْإِنْجِيلَ، لَا يَعْمَلُونَ بِشَيْءٍ مِمَّا فِيهِمَا؟!».
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کے درمیان بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ نے فرمایا: یہ وہ وقت ہوگا، جب لوگوں سے علم اٹھا لیا جا ئے گا۔ اس سے زیاد بن لبید انصاری رضی اللہ عنہ کو تعجب ہوا، تو انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ ہم سے علم کیسے اٹھا لیا جائے گا، جب کہ ہم قرآن پڑھتے اور یاد کرتے ہیں اور اللہ کی قسم ہم قرآن پڑھتے رہیں گے اور اپنی عورتوں اور بیٹوں اور پوتوں کو پڑھاتے رہیں گے؟ اس پر اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تعجب کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا: اے زیاد! تیری ماں تجھے گم پائے، میں تجھے مدینے کے علما میں شمار کیا کرتا تھا! پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو بتایا کہ علم اٹھ جانے کا مطلب یہ نہیں کہ قرآن اٹھ جائے گا، بلکہ علم اٹھنے کا مطلب ہے کہ اس پر عمل کرنا اٹھ جائے گا۔ کیوں کہ یہود ونصاری کے پاس بھی تورات وانجیل موجود ہیں، اس کے باوجود انہیں کوئی فائدہ نہیں ہو رہا اور نہ وہ ان کتابوں کے مقصد ومراد سے مستفید ہو رہے ہیں اور اپنے اس علم پر عمل کر رہے ہیں۔
موضوعات : برزخی زندگی · Merit and Significance of Knowledge