اسلام > Ur > حدیث > فقہ و اصول فقہ > اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے شراب بنانے کے بارے میں پوچھا گيا، تو آپ نے ان کو اسے بنا…
صحیح27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا
📖 1 منٹ مطالعہعن وائل الحضرمي أن طارق بن سويد الجعفي سأل النبي صلى الله عليه وسلم عن الخمر، فَنَهَاهُ -أو كره- أن يَصْنَعَهَا، فقال: إنما أَصْنَعُهَا لِلدَّوَاءِ، فقال: «إنه ليس بِدَوَاءٍ، ولكنه دَاءٌ».
اس حدیث میں اس بات کا بیان ہے کہ طارق بن سوید رضی اللہ عنہ نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے پینے کی بجائے دوا کے لیے شراب بنانے کے بارے میں پوچھا، تو آپ نے بتایا کہ یہ شفا نہيں بلکہ خود بیماری ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ شراب حرام ہے اور کئی طرح کی بیماریاں پیدا کرتی ہے نیز اس میں کسی طرح کا کوئی فائدہ نہیں ہے، لہذا اسے تلف کر دینا اور بہا دینا ضروری ہے۔
موضوعات : علاج معالجے سے متعلق احکام · حرام مشروبات