اسلام > Ur > حدیث > فقہ و اصول فقہ > بخیل اور خرچ کرنے والے کی مثال ایسے دو لوگوں کی سی ہے جن کے بدن پر چھاتيوں سے ہنسلی تک لوہ…
صحیح27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا
📖 1 منٹ مطالعہعن أبي هريرة رضي الله عنه مرفوعاً: «مثل البخيل والمنفق، كمثل رجلين عليهما جُنتان من حديد من ثُدِيِّهما إلى تَرَاقِيهما، فأمَّا المنفق فلا ينفق إلا سَبَغت -أو وَفَرَت- على جلده حتى تخفي بنانه وتَعْفُو أثره، وأمَّا البخيل فلا يريد أن ينفق شيئاً إلا لزقت كل حلقة مكانها، فهو يوسعها فلا تتسع».
نبی ﷺ نے کنجوس اور خرچ کرنے والے کی مثال دی۔ آپ ﷺ نے انہیں دو ایسے لوگوں سے تشبیہہ دی جن میں سے ہر ایک کے جسم پر ایک زرہ ہو جس نے اسے چھپا رکھا ہو اور سینے سے لے کر ہنسلی تک اسے محفوظ رکھتی ہو۔ 'ترقوہ' سینے کے بالائی حصے میں موجود ایک ہڈی کا نام ہے (ہنسلی کی ہڈی)۔ خرچ کرنے والا جب بھی خرچ کرتا ہے تو یہ زرہ پھیلتی جاتی ہے اور لمبی ہوتی جاتی ہے یہاں تک کہ وہ اس کے پیچھے پیچھے گھسٹتی ہے اور اس کے پاؤں، اس کے چلنے اور اس کے قدموں کے نشانات کو چھپا لیتی ہے جب کہ کنجوس شخص کی مثال اس آدمی کی سی ہے جس کی زرہ اس پر تنگ ہوگئی ہے یہاں تک کہ اس کے ہاتھ اس کی گردن سے بندھ جائیں اور جب بھی وہ کشادہ ہونے کا ارادہ کرے تو زرہ اس کی ہنسلی کے ساتھ لپٹ جائے۔
موضوعات : فضائل و آداب · علمِ اخلاق · نفلی صدقہ