اسلام > Ur > حدیث > فقہ و اصول فقہ > قسم اس اللہ کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اے عمر! جب شیطان کسی راستہ سے چلتا ہوا تم سے مل…
صحیح27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا
📖 2 منٹ مطالعہعن سعد بن أبي وقاص رضي الله عنه ، قال: استأذن عمرُ على رسول الله صلى الله عليه وسلم وعنده نساءٌ من قريش يُكَلِّمْنَه ويَسْتَكْثِرْنَه، عاليةً أصواتهن، فلما استأذن عمر قُمْنَ يَبْتَدِرْنَ الحجابَ، فأذِنَ له رسولُ الله صلى الله عليه وسلم ورسول الله صلى الله عليه وسلم يضْحَك، فقال عمر: أضْحَكَ اللهُ سِنَّك يا رسولَ الله، قال: «عَجِبتُ من هؤلاء اللَّاتي كُنَّ عندي، فلمَّا سَمِعْنَ صوتَك ابْتَدَرْنَ الحجابَ» قال عمر: فأنت يا رسولَ الله كنتَ أحقَّ أنْ يَهَبْنَ، ثم قال: أيْ عَدُوَّاتِ أنفسِهن، أَتَهَبْنَني ولا تَهَبْنَ رسولَ الله صلى الله عليه وسلم ؟ قلن: نعم، أنت أَفَظُّ وأغلظُ مِنْ رسول الله صلى الله عليه وسلم ، قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «والذي نفسي بيدِه، ما لَقِيَكَ الشيطانُ قَطُّ سالكًا فَجًّا إلَّا سَلَكَ فَجًّا غيرَ فَجِّكَ».
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ کےگھر میں آنے کی اجازت مانگی، اور آپﷺ کے پاس قریش کی کچھ عورتیں (آپﷺ کی بیویاں ) اکٹھی تھیں بات چیت ہو رہی تھی، آپ ﷺسے زیادہ خرچ مانگ رہی تھیں اور ان کی آوازیں بلند ہو رہی تھیں۔ جس وقت عمر رضی اللہ عنہ نے اجازت مانگی ان کی آواز کان میں پہنچی تو سب کی سب کھڑی ہو کر پردے میں بھاگیں، چنانچہ رسول اللہﷺنے عمر رضی اللہ عنہ کو گھر میں آنے کی اجازت دے دی۔ جب عمر رضی اللہ عنہ گھر میں داخل ہوئے تو آپ ﷺ ہنس رہے تھے، عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہﷺ! اللہ تعالی آپ کو ہمیشہ ہنستا رکھے، یعنی آپ کو اللہ تعالی خوش و خرم رکھے، چنانچہ نبی ﷺ نے فرمایا: مجھے ان عورتوں پر ہنسی آئی جو ابھی عمر کے آنے سے پہلے میرے پاس بیٹھی تھیں، مجھ سے بلند آواز میں باتیں کر رہی تھیں، جیسے ہی عمر رضی اللہ عنہ آئے ڈر اور احترام کی وجہ سے ان سے پردے میں ہو گئیں، توعمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اے اللہ کے رسولﷺ! ہونا تو یہ چاہیے کہ ان سب کو آپ کا ڈر اور احترام زیادہ ہو، پھر عمر رضی اللہ عنہ نے ان عورتوں سے کہا: اپنی جانوں کی دشمنو! تم مجھ سے ڈرتی ہو اور نبی ﷺ سے نہیں ڈرتی ہو؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہاں تم تُند مزاج اور سخت آدمی ہو بر خلاف رسول اللہ ﷺ کے کیونکہ وہ نرم ہیں، اس وقت رسول ﷺ نے قسم کھاکر فرمایا بے شک شیطان جب کسی راستہ سے چلتا ہوا تم سے ملتا ہے تو وہ راستہ چھوڑ کر دوسرا راستہ اختیار کر لیتا ہے۔
موضوعات : عورتوں سے متعلق احکام · آپ ﷺ کی رحمدلی