اسلام > Ur > حدیث > فقہ و اصول فقہ > جس نے جمعے کے دن وضو کیا، اس نے سنت پر عمل کیا اور یہ بہت عمدہ سنت ہے اور جس نے غسل کیا، ت…
حَسَنْ27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا
📖 1 منٹ مطالعہعن سمرة رضي الله عنه مرفوعاً: «من توضَّأَ يوم الجُمعة فَبِهَا ونِعْمَتْ، ومن اغْتَسَل فهو أفْضَل».
”من توضَّأَ يوم الجُمعة“ اس سے مراد نماز جمعے کے لیے وضو ہے۔ ”فَبِهَا“ یعنی اس نے سنت اور رخصت کو اختیار کیا۔ ”ونِعْمَتْ“ یعنی سنت کو اختیار کر کے اس نے اچھا کیا اور اس پر اس کی تحسین کی گئی ہے۔ ”ومن اغْتَسَل فهو أفْضَل“ یعنی جس نے وضو کے ساتھ ساتھ جمعے کے لیے غسل بھی کیا، وہ اس وضو سے افضل ہے، جو غسل سے خالی ہے۔ جمہور علماء اور ائمۂ اربعہ نے اسی سے استنباط کیا ہے اور ان کے دلائل میں سے ایک دلیل صحیح مسلم کی یہ روایت ہے: ”جو شخص اچھے طریقے سے وضو کرے، پھر جمعہ کے لیے چلے، خاموش رہے اور توجہ سے سنے تو ایک جمعے سے دوسرے جمعے تک، نیز مزید تین دن کے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں“۔
موضوعات : غسل کرنا۔ · نمازِ جمعہ